خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 495

۴۹۴ خطبات محمود جلد (5) بارشیں ہوں یا حد سے زیادہ ہوں اور کھیت کے کھیت تباہ ہو جائیں اور متواتر کئی سال تک ایسا ہی ہوتا رہے یا تجارت کرتا ہو اور اس میں گھاٹا پڑ جائے۔اسی طرح کے اور امتحان بھی ہیں جن میں انسان کا اپنا کوئی دخل نہیں ہوتا۔انسان کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ جس میں کسی پہلو سے آرام نہیں آتا۔لیکن اگر وہ باتیں جو انسان کے اختیار میں رکھ دی گئی ہیں انکو پورا کر دیا جائے تو وہ ایسے ابتلاؤں کے لئے بطور کفارہ کے ہو جاتی ہیں۔لیکن اگر ان کو پورا نہ کرے تو پھر ایسے مصائب میں ڈالا جاتا ہے جن سے بچنا محال ہو جاتا ہے۔مثلاً جہاد کے لئے مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔وقت صرف ہوتا ہے اور محنت اور کوشش کرنی پڑتی ہے۔مگر جب کوئی شخص اس راہ میں باوجود اس قدر آسانیاں پیدا کر دینے کے خود بخو د قدم نہیں اٹھاتا تو پھر اس کو ایسی تکلیف دی جاتی ہے اور ایسے امتحان میں ڈالا جاتا ہے کہ جس میں نہ اس کا کوئی دخل ہوتا ہے اور نہ اس سے بچنے کے لئے کوئی آسانی پیدا کر سکتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں جو انسان اپنے لئے خود کوئی تکلیف یا امتحان تجویز کرتا ہے وہ اگر زیادہ بھی ہوتو بھی برداشت کر لیتا ہے مثلاً کسی شخص کے پاس سو روپیہ ہو اور وہ اس میں سے دس روپے صدقہ کر دے تو اس کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی مگر جب اس کے دس روپے گر جائیں یا کوئی اس سے چھین لے تو اس کو سخت رنج اور تکلیف ہوگی کیوں؟ اس لئے کہ پہلے دس اس نے خود صدقہ کئے اور دوسرے اسکی مرضی کے خلاف اس کے ہاتھ سے گئے۔یا مثلاً ایک شخص اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے مگر ایک دوسرا خدا کی راہ میں جان دینے سے جی چرا کر اپنے گھر میں بیٹھ رہتا ہے۔مگر کوئی مصیبت آتی ہے اور اسکی جان لے کر جاتی ہے۔اب مرنے کو تو دونوں مر گئے۔وہ بھی جو خدا کی راہ میں مرا اور وہ بھی جو گھر بیٹھ کر مرا لیکن ان دونوں کے مرنے کے وقت ایک کی حالت نہیں ہو سکتی وہ جو خدا کی راہ میں خود قدم بڑھاتا ہے وہ خوشی سے اپنی جان دیتا ہے کیوں؟ اس لئے کہ پہلا شخص خود اپنے لئے خدا کی راہ میں جان دینا تجویز کرتا