خطبات محمود (جلد 5) — Page 496
خطبات محمود جلد (5) ۴۹۵ ہے اس لئے اسکو تکلیف نہیں خوشی ہوتی ہے اور دوسرا شخص چونکہ خدا کی گرفت میں آ کر جان دیتا ہے اسلئے وہ زیادہ تکلیف محسوس کرتا ہے اسی طرح ایک ایسا شخص جو نماز تہجد کے لئے سردی کی راتوں میں اٹھتا اور دو تین گھنٹہ آہ وزاری میں لگا رہتا ہے اس کے جسم کو بھی تکلیف پہنچتی ہے مگر وہ اس کی کوئی تکلیف محسوس نہیں کرتا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا یہ تکلیف اٹھا نا خدا کی رضا کے لئے ہے اور اس نے اپنے لئے خود تجویز کی ہے مگر اس کے مقابلہ میں وہ شخص جو کسی مصیبت کے باعث روتا ہے اسکا دل مرجاتا ہے وہ سخت کرب اور دُکھ محسوس کرتا ہے۔ان دونوں کا فرق ظاہر ہے پہلا خدا کی راہ میں خوشی سے خود تکلیف برداشت کرتا ہے اور دوسرا اس تکلیف کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔اس لئے اس کو وہ تکلیف بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ہاں جو شخص خدا کی بھیجی ہوئی مصیبتوں اور ابتلا ؤں پر مبر کرتا ہے وہ بھی ثواب کا مستحق ہو جاتا ہے۔پہلا جو ہے اسکو تو دوہرا ثواب ملتا ہے ایک اس لئے کہ اس نے خدا کی راہ میں خود خرچ کیا اور تکلیف اٹھائی اور دوسرے یہ کہ اس تکلیف کو خوشی سے برداشت کیا۔دوسرا شخص اگر چہ خود تو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتا اور نہ خود خدا کی راہ میں تکلیف اٹھاتا ہے مگر جب خدا خود اس کا امتحان لیتا ہے تو پھر صبر وشکر کو نہیں چھوڑتا اس لئے اسکو بھی ثواب ملتا ہے مگر پہلے سے آدھا۔اگر چہ وہ لوگ بھی جوان ابتلاؤں اور امتحانوں کو اپنے اوپر جاری کر لیتے ہیں جو خدا نے انسان کے ہاتھ میں رکھے ہیں۔بعض اوقات ان ابتلاؤں میں ڈالے جاتے ہیں جو خدا کے ہی اختیار میں ہیں اور انسان کا ان میں کچھ بھی دخل نہیں لیکن یہ جو ان کے لئے اس قسم کے ابتلاء بھیجے جاتے ہیں تو ان سے یہ ہرگز غرض اور غایت نہیں ہوتی کہ وہ ہلاک کر دئے جائیں۔بلکہ ان ابتلاؤں سے ان لوگوں کی روحانی نشو و نما اور درجات میں ایک دوسرے پر تفوق ظاہر کیا جاتا ہے کیونکہ اختیاری امتحانوں میں تو وہ سب برابر ہوتے ہیں پھر ایسے امتحانوں میں بڑھ کر صبر اور شکر دکھاتے ہیں۔انکے درجات بلند کئے جاتے ہیں۔۔