خطبات محمود (جلد 5) — Page 494
خطبات محمود جلد (5) ۴۹۳ چھت کے نیچے نہ کھڑا ہوا جاتا ہو تو میدان میں کھڑا ہو جاتا ہے۔اگر زمین تپی ہوئی ہو تو نیچے کپڑا بچھا لیتا ہے۔اگر کھڑا ہونے سے تکلیف ہو تو بیٹھ کر اور اگر بیٹھ کر تکلیف ہو تو لیٹ کر پڑھ لیتا ہے۔غرض اس صورت میں انسان اپنی تکلیف کے دور کرنے کیلئے بہت سی آسانیاں پیدا کر سکتا ہے۔اسی طرح روزہ کا امتحان ہے وہ بھی بندہ کے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔اس میں بھوک پیاس لگتی ہے۔اس کے لئے سحری کے وقت ایسی غذائیں استعمال کر سکتا جو تمام دن معدہ میں رہیں۔یا ایسے کام ترک کر سکتا ہے۔جن سے بھوک یا پیاس لگے۔اسی طرح حج ہے اس کے لئے فرصت کا وقت تجویز کر سکتا ہے سفر کے ایسے سامان بہم پہنچا سکتا ہے جو آرام کا موجب ہوں اور سواری میں اونٹ پسند نہیں تو گھوڑے پر سفر کر سکتا ہے۔ریل بھی ہے اور ریل نہ ہو تو امراء پالکیاں اور نالکیاں بہم پہنچا لیا کرتے ہیں۔غرض سفر کو آسانی سے طے کرنے کے لئے جو سامان چاہئیے استعمال کر سکتا ہے۔زکوۃ کا بھی یہی حال ہے ایک مقررہ رقم ہے اور جس قسم کی چیزیں ہوں انہی میں سے زکوۃ دی جاسکتی ہے۔پھر یہ نہیں کہ ایک ہی دفعہ دے دی جائے۔بلکہ واجب زکوۃ سال کے اندر اندر دی جاسکتی ہے غرض کئی قسم کی اور بھی سہولتیں پیدا کی جاسکتی ہیں۔پس نماز میں بھی سہولتیں ہیں روزہ میں بھی حج میں بھی اور زکوۃ میں بھی۔جہاد میں بھی سہولتیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔پیدل کام نہ ہو سکے تو سوار ہو جاؤ۔زرہ پہن لو ہتھیار جس قدر نو ایجاد اور حفاظت کے لئے ضروری ہوں سب سے کام لیا جا سکتا ہے اور اگر تلوار سے جہاد کا وقت نہ ہو تو اس وقت جس طریق سے دین کی خدمت کی ضرورت ہو۔اس طرح کر سکتا ہے یعنی اگر لکھنا جانتا ہے تو قلم سے اگر بولنا جانتا ہے تو زبان سے کام کر سکتا ہے۔اموال خرچ کر سکتا ہے۔یہ امتحان اس لئے ہیں کہ جو انسان ان کو پورا کر لیں وہ ان امتحانوں سے بچائے جائیں جو خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں اور ان میں انسان کا کوئی دخل نہیں۔مثلاً مری پڑے اور تمام بچے ہلا ہو جائیں۔بے وقت