خطبات محمود (جلد 5) — Page 484
خطبات محمود جلد (5) ۴۸۳ کہ آپ سے پہلے اس نام کا کوئی انسان نہیں ہوا تو یہ کوئی ایسی بات نہیں جسے خدا تعالیٰ ایک انعام کے طور پر بیان فرماتا۔پس لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا کے یہ معنے کہ حضرت یحی سے پہلے کئی نام کا کوئی شخص نہیں گزرا غلط ہیں۔در حقیقت اس کا یہ مطلب ہے کہ حضرت بھی ایک بات میں بے مثل ہیں۔یعنی ان کو ایک ایسا کام سپر د کیا گیا ہے جو ان سے پہلے کسی اور نبی کے سپرد نہیں کیا گیا یعنی ان کو ایک نبی کا نام دیکر اور اسکا قائم مقام بنا کر بھیجا گیا تا کہ وہ کسی آئندہ آنیوالے کے لئے رستہ صاف کریں اور دنیا کے لئے نمونہ ہوں۔اب جب حضرت مسیح موعود کی صداقت کے متعلق ایک عیسائی کے ساتھ بحث ہو۔اور جب ہم اسے یوحنا کی آمد کی نظیر بتلا کر حضرت مسیح موعود کی آمد کی حقیقت بتا ئیں گے تو ضرور ہی وہ لا جواب ہو جائے گا۔اور سینکڑوں لوگ اس بات کے ذریعہ جو حضرت یحیی کے ذریعہ مسیح موعود کی صداقت میں قائم ہوئی۔ہدایت پاسکیں گے۔اس آیت میں جو میں نے پڑھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہی میں ایک ایسا کمال رکھیں گے جس کے باعث وہ ایک عظیم الشان انسان کے لئے جو سب نبیوں کا موعود ہوگا۔بطور مثال پیش کیا جائے گا۔بنی اسرائیل میں اس سے قبل ایسی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔ان میں یہ نمونہ قائم فرما دیا۔اور حضرت مسیح نے فیصلہ کیا کہ ایلیاء جو آنے والا تھا۔وہ یوحنا ہی ہے لے۔جو ا سکے رنگ میں آیا۔اسی کو قبول کرو اب حضرت کی ایک نظیر بن گئے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر ہوگا تو ضرور ہے کہ حضرت سجی کو دلیل اور مثال کے طور پر پیش کیا جائے۔اور اس طرح پر وہ زندہ ہیں۔اور ان کا نام قائم ہے یہ ایک ایسی فضیلت ہے جو حضرت سجی سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی۔یہ ایک ایسی مثال ہے۔جو بہت چھوٹی ہے۔کیونکہ حضرت یحی کو صرف ایک نبی کا نام دیا گیا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جن کے : متی ۱۱/۱۴