خطبات محمود (جلد 5) — Page 485
خطبات محمود جلد (5) ۴۸۴ لئے حضرت سکی ایک دلیل کے طور پر ہیں۔تمام گزشتہ انبیاء کے نام دیئے گئے۔زرتشت کے متعلق بھی ان کے محققین کا یہی فیصلہ ہے کہ یہ زرتشت جو مشہور ہے۔اس کا اصل میں کچھ اور نام تھا۔اور اس سے پہلے ایک شخص زرتشت نام گزرا ہے۔جس کے نام کے ساتھ ہی دوسر از رتشت جس کا اصل نام مفقود ہو گیا مشہور ہے۔اور یہ اسکا مثیل ہے۔تعجب ہے کہ لوگ حضرت سکی کے متعلق ادھر توجہ نہیں کرتے بلکہ اس کے نام میں خصوصیت تلاش کرتے ہیں حالانکہ کسی نام میں منفر د ہونا کوئی خصوصیت نہیں۔حضرت مسیح ناصری کی آمد کے لئے نشان تھا کہ وہ نہیں آ سکتے جب تک کہ ایلیاء آسمان سے نازل نہ ہو۔لیکن جب حضرت مسیح آئے۔اور آپ سے سوال کیا گیا کہ ایلیاء کہاں ہے۔جس نے آپ سے پہلے آسمان سے نازل ہونا تھا تو انہوں نے اس پیشگوئی کی حقیقت اس طرح بیان کی کہ یوحنا ہی ایلیاء ہے۔یعنی یہ اس کے رنگ میں ہو کر آیا ہے اس کو قبول کرو۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کے متعلق وعدہ تھا کہ مسیح آئے گا۔لوگوں نے سمجھ لیا کہ مسیح ناصری ہی آئے گا۔حالانکہ ان کا ایسا سمجھنا غلط تھا۔کیونکہ اس پیشگوئی کی حقیقت بھی یہی تھی کہ جس طرح یوحنا کو ایلیاء حضرت مسیح نے خود قرار دیا۔اسی طرح ان کی پیشگوئی سے بھی کوئی ایسا ہی شخص مراد ہے جس کا نام تو کچھ اور ہو گا مگر اس کو وہ تمام صفات دے دی جائیں گی۔لوگوں کو یہ مثال تو بتا دی گئی تھی۔مگر افسوس انہوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا اور جس طرح اور حقائق کو بھلا دیا۔اسی طرح اس بات کو بھی فراموش کر دیا۔بنی اسرائیل کے پاس اس کی کوئی مثال نہیں تھی۔مگر مسیحی لوگوں اور مسلمانوں کے پاس تو یوحنا کی ذات میں ایلیاء کی دوبارہ آمد کی مثال موجود ہے۔مگر افسوس جب اس مثال سے فائدہ اٹھانے کا وقت آیا تو انہوں نے اس کو فراموش کر دیا۔بنی اسرائیل تو معذور بھی قرار دئے جا سکتے ہیں کیونکہ ملا کی نبی کی