خطبات محمود (جلد 5) — Page 346
خطبات محمود جلد (5) ۳۴۶ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ یہ تین قسم کے لوگ ظالم نہیں بلکہ اظلم ہیں یعنی سب سے بڑے کافر ہیں۔یعنی وہ لوگ جو جھوٹا الہام بناتے ہیں اور وہ جو بچے نبی کا انکار کرتے ہیں اور وہ جو اللہ کے نام پر بنائی ہوئی مساجد سے لوگوں کو نماز پڑھنے سے روکتے ہیں۔ان کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے لئے ذلت ہے اور فرمایا انہ لا یفلح الظلمون نے ظالم کا میاب نہیں تو یہ واظلم ہیں یہ کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔پس ان کے لئے دنیا و آخرت میں ذلت و نا کامیابی ہے۔یہ تین بڑے گروہ ہیں جن کے متعلق فرمایا کہ یہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔حضرت مسیح موعود کی صداقت کے متعلق جس وقت ہم یہ معیار پیش کرتے ہیں تو وہ چند لوگوں کے نام لے دیا کرتے ہیں۔مثلاً باب وغیرہ۔کہ وہ بھی تو تیئیس سال سے زیادہ تک زندہ رہے۔پس ان لوگوں کا کامیاب ہونا اور تیئیس سال تک زندہ رہنا ثابت کرتا ہے کہ ظالم بھی کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن یہ ان کی غلطی ہے کہ ہمارے سامنے ان لوگوں کو پیش کرتے ہیں جو مفتری علی اللہ نہ تھے۔یعنی یا تو ان کا دعویٰ نبوت تھا ہی نہیں یا وہ مجنون تھے اور مجنون سزا کا مستوجب نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ نے سزا افتراء علی اللہ کرنے والوں کے لئے رکھی ہے یعنی جو اللہ پر جان بوجھ کر افتراء باندھتے ہیں لیکن مجنون بیچارہ تو نہیں جانتا کہ میں کیا کہ رہا ہوں اور مجنون کو پہچانا کوئی مشکل نہیں۔پس جو شخص رسالت یا نبوت کا مدعی ہی نہیں یا جو مجنون ہے اسکی مثال ہمارے سامنے نہیں پیش کی جاسکتی اور وہ جو اللہ ہونے کا مدعی ہو وہ بھی پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ معیار انہیں لوگوں کے پر کھنے کا ہے جو افتراء علی اللہ کرتے ہیں اور مجنون نہیں ہوتے۔بہاء کا دعوی خدائی کا تھا اور اس میں سخت نا کام ہو الیکن لوگ اس کے حالات کی ناواقفیت کی وجہ سے کہہ دیا کرتے ہیں۔پس اس کا رسالت کا دعوی نہ تھا اور قرآن نے جھوٹے خداؤں کے لئے کوئی سزا اس جگہ بیان نہیں فرمائی اور نہ اس کی ضرورت تھی کیونکہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک ضعیف اور ناتوان انسان کبھی خدا نہیں ہو سکتا۔لیکن رسول چونکہ انسان ہی ہوا کرتے ہیں اس لئے اگر جھوٹے رسول بھی کامیاب ہو جایا کرتے تو دُنیا گمراہ ہوکر ہلاک ہو جاتی اور پھر بچے اور جھوٹے رسول میں کوئی امتیاز نہ رہتا۔اس لئے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کے لئے یہ سزا مقرر کی کہ وہ ہلاک کئے جاتے ہیں۔ہمارے سامنے جن کو پیش کیا جاتا ہے ان میں بہت سے تو پاگل تھے اور بعض رسالت کے مدعی ہی نہ تھے اور مجنون اور پاگل کے لئے یہاں عذاب کی شرط نہیں ہے کیونکہ مجنون کبھی اپنے دعوئی میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔لیکن حضرت مسیح موعود کو ہر مذہب وملت کے لوگوں نے مانا ہے اور ہر طبقہ کے لوگوں نے قبول کیا ہے اور یہ آپ کے کامیاب ہونے کی علامت ہے۔ایک مجنون کی حرکات وسکنات ل الانعام : ۲۲ -