خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 347

خطبات محمود جلد (5) ۳۴۷ میں وقار نہیں ہوتا اور وہ ہر ایک بات میں حدود سے باہر ہو جاتا ہے اس لئے سمجھدار اور دان منتقی اور باوقار لوگ اس کے ماتحت نہیں ہوا کرتے۔یوں تو مجنون تمام انبیاء کو ہی کہا گیا ہے اور حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور حضرت مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام ) کو بھی کہا گیا ہے لیکن حضرت نبی کریم اور حضرت مسیح موعود کوان لوگوں نے قبول کیا جن کی دانشوری اور عقلمندی دُنیا میں مسلم تھی اور جن کو متفقہ طور پر دانا کہا جاتا تھا۔ان لوگوں کا آپ کو قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ مجنون نہ تھے اس کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں جن سے آپ کے بچے ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔مگر یہی ایک دلیل ایسی موٹی اور واضح ہے کہ ہر شخص اس کو سمجھ سکتا ہے۔وہ لوگ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود کو قبول کیا یہ نہیں کہ کہیں دور کے رہنے والے تھے اور آپ کے حالات سے ناواقف تھے۔بلکہ یہ وہ لوگ تھے جو بچپن سے لے کر جوانی تک اور پھر آخری عمر تک آپ کے حالات کو خوب اچھی طرح جانتے تھے۔حضرت ابوبکر جو اپنی قابلیت اور دانائی کے لحاظ سے تمام قوم میں عزت و وقعت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے اور جب کسی پر کوئی مشکل آپڑتی تھی تو وہ آپ کی طرف مشورہ کے لئے رجوع کرتا تھا۔جس وقت اُن کو معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی نبوت کیا ہے اُس وقت آپ سفر سے آرہے تھے آپ نے سننے کے ساتھ فوراً ہی قبول کر لیا اور کہا کہ اس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔پھر حضرت ابو بکر ہی نہیں بلکہ ہزاروں داناؤں نے آپ کو قبول کیا۔اُن لوگوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوتسلیم کرنا جن کی دانائی و عقل مندی مشہور تھی آپ کے مجنون نہ ہونے پر گواہ ہے۔اس لئے وہ لوگ جو ایسے لوگوں کی مثالیں لا کر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی کو جھٹلانا چاہتے ہیں جنہوں نے دعوی نبوت ہی نہیں کیا یا وہ مجنون تھے بہت بڑی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود کو بھی بہت سے اسی قسم کے لوگوں نے مانا ہے جو اپنے حلقہ میں خاص عزت و احترام رکھتے تھے۔مثلاً حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک ایسے شخص تھے جن کو تمام ہندوستان میں کم و بیش لوگ خوب جانتے اور آپ کی قابلیت کو تسلیم کئے ہوئے تھے۔اور خصوصا آپ علم طب میں ایسے شہرہ آفاق تھے کہ جس کی نظیر نہیں۔اور جب وہ علم ہے کہ جس سے جنون کو خوب پہچانا جا سکتا ہے۔پس آپ کا حضرت مسیح موعود کے دعویٰ کو تسلیم کرنا ثابت کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود مجنون نہ تھے کیونکہ اگر مجنون ہوتے تو وہ شخص جس کی طبی قابلیت خاص طور پر مشہور تھی اور جو اپنے پیشہ میں فرد تھا اُس کو وہ تسلیم نہ کرتا لیکن اُس نے ایسا تسلیم کیا کہ سب کچھ چھوڑ کر اُس کے پاس آبیٹا اور یہیں اپنی زندگی بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم باب مناقب المہا جرین۔