خطبات محمود (جلد 5) — Page 344
خطبات محمود جلد (5) ۳۴۴ اسی قسم کے کئی ایک اعتراض ان کی طرف سے کئے گئے ہیں جن میں انہوں نے اپنی علمی برتری دکھانے کی کوشش کی ہے لیکن ہر دفعہ ہی نہایت ذلیل اور رسوا ہوئے ہیں۔انہیں میں سے ایک نے کہا تھا کہ مسلم کی حدیث میں جو نبی اللہ کا لفظ آیا ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں بلکہ کسی ہندی کا ہے کیونکہ نبی کے ساتھ اللہ کا لفظ لگایا گیا ہے۔جب کوئی نبی ہوگا تو اللہ ہی کا نبی ہوگا پھر نبی اللہ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔اگر یہ بات درست ہے تو ہم کہتے ہیں کہ انبیاء اللہ جو قرآن کریم میں آیا ہے وہ کیا کسی عجمی نے قرآن کریم میں داخل کر دیا ہے۔کیسی نادانی اور جہالت کی بات ہے لیکن اس پر بڑا فخر کیا گیا جس کے نتیجہ میں آخر ذلّت اُٹھانی پڑی۔اب بھی ایسا ہی ہوگا اور انی مهین من اراد اهانتك ا کے ماتحت جو حضرت مسیح موعود کی ہتک کرے گا وہ خود ذلیل اور رُسوا ہو گا۔صرف آپ کی ہتک کرنے والا کبھی عزت نہیں پاسکتا تو پھر آپ کے الہامات کی ہتک کرنے والا کہاں عزت پاسکتا ہے کیونکہ جو الہامات کی ہتک کرتا ہے وہ اس کی ہتک کرتا ہے جس کا وہ کلام ہے یعنی خدا تعالیٰ کی۔خدا تعالیٰ ان لوگوں کی آنکھیں کھولے اور انہیں حق کے سمجھنے کی توفیق دے اور اس ذلت و رسوائی سے بچائے جس کے سامان وہ اپنے ہاتھوں کر رہے ہیں۔اگر چہ ان کو ذلت ان کے اپنے ہی افعال سے پہنچتی ہے مگر وہ کہلاتے تو احمدی ہیں اس لئے ہمیں افسوس بھی آتا ہے اور ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں سمجھ دے۔الفضل ۱۲ ؍ دسمبر ۱۹۱۷ء) تذکره ص ۳۴