خطبات محمود (جلد 5) — Page 295
۲۹۵ 33 خطبات محمود جلد (5) قرآن کریم میں حضرت مسیح موعود کے زمانہ کے متعلق پیشگوئی (فرموده ۱۳ /اکتوبر ۱۹۱۶ء) سورہ فاتحہ اور مندرجہ ذیل سورہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَيْرٍ مَا خَلَقَ وَمِنْ شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِنْ شَرِ النَّقْفتِ فِي الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ! انسان کی ترقی اور کامیابی کے لئے خدا تعالیٰ نے اس قدر سامان پیدا کئے ہیں کہ کوئی شخص ان کی حد بندی نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ اگر تم اس کی نعمتوں کو مار کرنا چاہوتو تمہاری طاقت میں نہیں کہ انکو شمار کر سکو سے۔پھر فرماتا ہے کہ سمندر اگر سیاہی ہو جائیں اور تمام درخت قلمیں اور ان سے خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو لکھنا شروع کیا جائے تو یہ تمام کے تمام صرف ہو جائیں مگر مَا نَفِدَتْ كَلِمتُ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے کلمات کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ کے کلمات اس کی تمام پیدا کی ہوئی مخلوق ہے اور وہ تمام انعامات جو اُس نے انسان کے نفع اور فائدہ کے لئے پیدا کئے ہیں سب کلمات اللہ ہی ہیں انسان کی کیا طاقت ہے کہ ان کی حد بندی کر سکے اور ان کو شمار میں لا سکے۔پس جب اس کے انعامات غیر محدود ہیں تو انسان کی ترقی کا میدان کس طرح محدود ہو سکتا ہے وہ بھی غیر محدود ہی ہے اس لئے انسان ترقی بھی غیر محدود ہی کر سکتا ہے لیکن ان کے حصول کے لئے پھر غیر محدود محنت اور مشقت کی ضرورت ہے۔مثلاً کسی مکان کی بیش ۲ سیڑھیاں ہیں تو اس پر چڑھنے کے لئے بین آ ہی دفعہ ہر سیڑھی پر گذرنے کے لئے کوشش کرنی پڑے گی۔تو غیر محدود ترقی حاصل کرنے والے کو غیر محدود محنت اور ان تھک کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کی ترقی کے لئے بڑے سامان پیدا کئے ہیں۔پھر ان سامانوں کے ساتھ کچھ ایسے مواقع بھی ہوتے ہیں جن کے ذریعہ انسان کو چوکس اور ہوشیار کیا جاتا ہے۔قاعدہ کی بات ہے کہ تکلیف سے انسان چوکس اور ہوشیار ہوتا ہے اور اس کے برخلاف راحت الفلق : ص ٢ النحل : ۱۹ لقمان : ۲۸