خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 296

خطبات محمود جلد (5) ۲۹۶ اور آرام سے غافل اور سست ہوتا ہے اس لئے جتنی تکلیف زیادہ ہو اتنا ہی اس کو زیادہ چوکس رہنا پڑتا ہے اور جتنا اس کو زیادہ آرام حاصل ہو اتنا ہی اس پر زیادہ مستی اور غفلت طاری ہوتی ہے۔مثلاً شیر کے سامنے اگر کوئی پڑا ہوا ہو یا کسی اور خوف وخطر کی جگہ میں ہو تو اُسے نیند نہیں آتی مگر جب ٹھنڈی جگہ، ٹھنڈا پانی اور نرم بستر پر پنکھا جھلنے والے خدام اس کو میسر آئیں تو بڑی غفلت کی نیند سو جاتا ہے کیونکہ آرام غفلت کا باعث ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر نعمت انسان کو غافل کر دیتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کے انعامات کے ساتھ کچھ تکالیف بھی ہوتی ہیں جو اس کو چستی اور ہوشیاری کی طرف لے جاتی ہیں تا وہ انعامات سے راحت اور آرام حاصل کر کے غافل اور سست نہ ہو جائے۔جو شخص ان دونوں باتوں کو مد نظر نہیں رکھتا وہ ترقی اور کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔انسان کو تکالیف سے یہ یقین ہونا چاہیئے کہ اس کو غفلت سے بچانے اور سستی سے دُور رکھنے کے لئے ہیں۔جو اپنے آپ کو ان مشکلات سے بچانا چاہتا ہے وہ غافل اور مست ہو کر ترقی سے محروم رہ جاتا ہے اور ایسے ہی لوگ ہمیشہ ذلیل اور خوار ہوتے ہیں ورنہ خدا تعالیٰ نے انسان کو ذلت اور رسوائی کے لئے نہیں بلکہ بڑے انعامات کے لئے پیدا کیا ہے لیکن اس میں وہی کامیاب ہو سکتا ہے جو مشکلات اور مصائب کو بھی برداشت کرتا ہے اور ان مشکلات اور تکالیف کو انعام کے ساتھ رکھنے کی غرض صرف یہی ہے کہ انسان غافل اور سست نہ ہو جائے۔پس کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ نہ تو انسان تکالیف سے گھبرائے اور نہ ہی انعامات سے آرام میں پڑ کر خدا تعالیٰ سے غافل ہو جائے۔اس صورت میں خدا تعالیٰ نے ان مشکلات سے بچنے کا ایک طریق بیان کیا ہے۔فرمایا تمہارے راستے میں بڑی مشکلات ہیں۔ہر ایک اچھی چیز میں بھی انسان کے لئے کوئی نہ کوئی پہلوٹھوکر کا ہوتا ہے حتی کہ اللہ کی ذات جو انسان کے حق میں بہت ہی مفید اور بابرکت ہے اور ہمیشہ اس کے لئے فائدہ ہی فائدہ چاہتی ہے۔اس میں بھی یہ ٹھوکر کھا جاتا ہے۔کبھی اس کی صفات کو نہ سمجھنے اور کبھی اس کی قدرتوں اور طاقتوں کے نہ جاننے کے باعث وہ گمراہی اور ضلالت کے گڑھے میں گر جاتا اور راہ راست سے دُور جا پڑتا ہے۔یہی کھانا جو انسان کے لئے قوت اور طاقت کا باعث بلکہ انسانی زندگی کا انحصار اسی پر ہوتا ہے۔جب کوئی اسے حد سے زیادہ استعمال کر لیتا ہے تو یہی اس کے لئے نقصان دہ اور ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے۔ہندوؤں کے ہاں شرادہ ہوتے ہیں۔سنا گیا ہے کہ بعض وقت شرطیں لگا لگا کر پنڈت اتنا کھا جاتے ہیں کہ پیٹ پھٹ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ایک برہمنی کسی خاندان میں بیاہی گئی۔ایک روز اس کی ساس نے اس کو کہا کہ اپنے سسر کے لئے بستر بچھا چھوڑو کہ وہ آج شرادھ کھانے گیا ہے۔جب کھا کر آتا ہے تو بیٹھ نہیں سکتا۔یہ سنکر بہو رونے اور پیٹنے لگی کہ میں کن کمینوں کے ہاں بیاہی گئی ہوں ہماری قوم کی تو انہوں نے ناک کاٹ دی۔ساس نے پوچھا تم کیوں روتی پیٹتی ہو۔کہنے لگی تمہارے ہاں میرے بیا ہے جانے سے تو ہمارے خاندان کی ناک کٹ گئی ہے۔ہمارے خاندان سے تو جو کوئی شرادھ کھانے جاتا ہے وہ خود چل کر