خطبات محمود (جلد 5) — Page 294
خطبات محمود جلد (5) ۲۹۴ ایسی ایسی گواہیوں کے ہوتے ہوئے اگر کوئی ۱۸۸۹ ء یل۱۸۹۶ء میں بیعت کرنے والا اس کے خلاف کہتا ہے تو ہم کہیں گے کہ غلط کہتا ہے۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی کہنے پر ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ ایک اور ایک دو ہونے پر۔یہی وجہ ہے کہ میں غیر مبائعین کو کہتا ہوں کہ مقابلہ پر آکر مباہلہ کرلیں۔یہ تو اُن کے لئے ہے جو کچھ حیثیت رکھتے ہیں اور جو ایسے نہیں اُن کو بھی اجازت ہے کہ وہ اپنی طرف سے اعلان کر دیں کہ جو جھوٹا ہے وہ ہلاک ہو جائے۔اگر ایسا نہیں کرنا چاہتے تو اپنے لیڈر کو میدان میں نکالیں۔مجھے تو ذرا بھی خیال نہیں آتا کہ حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے۔ہم آپ کے سامنے آپ کو نبی کہتے رہے ہیں۔ایک دفعہ کسی نے کہا کہ آپ بھی ایسے ہی ہیں جیسے کہ پہلے مجدد تھے۔آپ لیٹے ہوئے تھے اُٹھ بیٹھے اور کہا کہ میں نبی ہوں۔اور نبی مبالغہ کا صیغہ ہے۔مجھ سے پہلے اس اُمت میں کون ایسا ہوا ہے جو کثرت سے غیب کی خبریں دیتا تھا۔اس سے معلوم کر لو کہ آپ نبی تھے یا نہیں۔کوئی آپ کو پہلے مجد دوں کی طرح سمجھتا ہے تو دیکھ لے کہ کدھر جا رہا ہے۔خیر اخیر میں میں پھر اس بات کی طرف اپنی جماعت کو تو مجہ دلاتا ہوں اور یہاں اور باہر کے رہنے والوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ وہ مسئلہ نبوت کے متعلق بار بار اخبار میں مضامین لکھتے رہیں اور نہ صرف حضرت مسیح موعود کی کتابوں سے بلکہ قرآن، حدیث اور آئمہ کے اقوال سے۔اور یہ مضمون اس کثرت سے شائع ہوتے رہیں کہ لوگوں کو یاد ہو جائیں اور ایسے یاد ہوں کہ جن کے بھولنے کی مرنے تک امید نہ ہو۔ہمیں کسی سے بغض نہیں اور کسی بات سے خاص تعلق نہیں ہمیں تو خدا تعالیٰ سے غرض ہے ہم اسکے خوش کرنے کے لئے ہر ایک بات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ہاں دعا کرتے ہیں کہ جس طرح ہمیں اپنے عقائد پر شرح صدر ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ یہی درست عقائد ہیں اسی طرح ان کو بھی جو ہمارے دوست تھے ان عقائد کے سمجھنے کی توفیق نصیب ہوتا کہ مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا اظہار کرنے والی ایک متحدہ جماعت تیار ہو اور درمیان سے فتنہ اور فساد دُور جائے۔(الفضل ۲۱ اکتوبر ۱۹۱۶ء)