خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 221

خطبات محمود جلد (5) ۲۲۱ اُسے اور اونچا کر دیتے ہیں۔بہت سی باتیں ہیں جن کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں ہے۔بحث و مباحثہ کرنے میں تو ہوشیار ہیں مگر ذکر الہی اور دُعا کرنے میں سست اور غافل لغو اور فضول باتوں سے پر ہیز نہیں کرتے۔اور دین کی عظمت ان کے دلوں میں نہیں ہے۔تبعید کی ادائیگی اور نوافل کے پڑھنے کی طرف خیال نہیں کرتے۔یہاں کے بعض لوگوں میں بھی یہ کمی ہے جس کے دور کرنے کی طرف انہیں بہت جلد توجہ کرنی چاہیئے۔یہاں قریبا نو ماہ سے بخار چلا آتا ہے اس کے آنے سے دو تین ماہ پہلے میں نے اپنا رویا بھی بتلا دیا تھا کہ میں نے یہ خطر ناک بخار دیکھا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے پہلے بتانے کی یہی غرض ہوتی ہے کہ لوگ عاجزی اور تضرع اختیار کریں اور خدا کے حضور گر جائیں۔کہتے ہیں شیر کے آگے اگر کوئی گر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا۔شیر کا تو پتہ نہیں لیکن اگر خدا کے آگے کوئی گرے تو وہ ضرور ہی حملہ نہیں کرتا۔جو کوئی خدا کے حضور گرتا ہے وہ گویا اپنے نفس کو مار دیتا ہے۔اس لئے سزا سے بچ جاتا ہے دیکھو انسان کے آگے بھی کوئی جھک جائے تو اسے بھی شرم آجاتی ہے۔پھر خدا تعالیٰ اپنے آگے گرے ہوئے پر کیوں رحم نہ کرے۔بچپن میں ہم نے ایک کشتی بنوائی تھی لڑکے اسے ڈھاب میں تیرانے کے لئے لے جاتے تھے۔اور بے احتیاطی سے توڑ دیتے تھے۔میں نے ایک دفعہ لڑکوں کو کہا کہ جب کوئی لڑکا کشتی لے جائے تو مجھے بتانا۔میں اسے سزا دوں گا۔چنانچہ ایک دن جب چند لڑ کے اسے لے گئے تو لڑکوں نے مجھے بتایا۔میں وہاں گیا تو وہ سب بھاگ گئے لیکن ایک کو پکڑ لیا گیا۔جب میں اسے مارنے لگا تو اس نے آگے سے سر ڈال دیا۔اور کہا کہ لو مارلو۔یہ سنکر میری ہنسی نکل گئی اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔تو جھکے ہوئے پر جب انسان کو بھی رحم آجاتا ہے تو خدا کو کیوں رحم نہ آئے۔جھکنے سے اس کا بھی غضب ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔اللہ تعالی گرے ہوئے پر کبھی قدم نہیں مارتا۔ہاں جو چھاتی نکال کر کھڑا ہو جائے۔اور عید اور غلطی کر کے اس پرا کڑے۔اسے گراتا ہے۔اور جس پر سے اس کا غضب ٹھنڈا ہو جاتا ہے وہ نہ صرف سزا سے بچ جاتا ہے بلکہ اس کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمانیت بھی جوش میں آتی ہے۔غرض ہماری جماعت کے لئے بہت توجہ کی ضرورت ہے۔یہاں کے لوگ بھی اور باہر کے بھی نمازوں میں