خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 220

خطبات محمود جلد (5) ۲۲۰ اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کسی قوم سے اس وقت تک واپس نہیں لیتا جب تک کہ اس میں کمزوریاں اور نقص نہیں پیدا ہو جاتے۔پس اگر تم پر کوئی مصیبت یا ابتلا آتا ہے تو تمہارے ہی ہاتھوں کی کمائی ہوئی وجہ سے۔اس لئے ہوشیار ہو جاؤ اور اس کے دور کرنے کے لئے کوشش کرو۔خدا تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں وہ ضرور پورے ہوں گے مگر تم اپنی غفلت اور سستی کو چھوڑ دو۔میں تو اس کو بھی نیچریت ہی سمجھتا ہوں کہ کوئی منہ سے دعوے تو بہت کچھ کرے مگر قلب کے حضور کے ساتھ ان کے حصول کی کوشش نہ کرے۔اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں سے استکبار کرنا اچھا نہیں۔گو کوئی ان کو اچھا سمجھے۔لیکن جو اپنے خیالات یا موجودہ زمانہ کے حالات سے ڈر کر ذکر الہی کو عملی طور پر لغو سمجھے اور اس کے لئے کوئی وقت خالی نہ کرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجے۔وہ عملی طور پر استکبار کرتا اور خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں کی تحقیر کرتا ہے۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تہجد اور نوافل پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے۔بہت ایسے ہیں جو صرف فرائض کا ادا کر لینا ضروری سمجھتے ہیں۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ نوافل سے قرب الہی حاصل کرتا ہے لوگوں نے اس کے معنے یہ کئے ہیں کہ نوافل بھی قرب کا باعث ہوتے ہیں۔لیکن میرے نزدیک اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ نوافل ہی قرب کا باعث ہوتے ہیں۔کیونکہ فرائض کی ادائیگی انسان کو ایمان کے درجہ پر پہنچاتی ہے۔دیکھ لو۔گورنمنٹ کے ملازمین کے جو فرائض ہوتے ہیں ان کے ادا کرنے پر وہ صرف تنخواہ کے مستحق ہوتے ہیں۔انعام کے نہیں۔ہاں اگر وہ اپنے فرائض سے بڑھ کر کوئی کام کریں تو بے شک انعام پاتے ہیں۔اسی طرح صرف فرائض کا ادا کرنا خدا تعالیٰ کے قرب کا باعث نہیں ہوتا۔بلکہ یہ ایمان کی بنیاد پر قائم کرتا ہے آگے نوافل بڑھاتے اور درجہ دلاتے ہیں۔پھر بعض اوقات نوافل فرائض کی جگہ بھی کام آتے ہیں کیونکہ کوئی فرض کسی دل سے ادا کیا جاتا ہے اور کوئی کسی سے۔اس لئے نوافل فرائض کے قائم مقام ہو جاتے ہیں۔مثلاً ایک گڑھا ہو۔اگر وہ زیادہ گہرا ہو تو اس میں جو مٹی ڈالی جائے گی وہ اسی میں غائب ہو جائیگی لیکن اگر کم گہرا ہوتو اور مٹی ڈالنے سے وہ گڑھے والی جگہ اور بھی اونچی ہو جائیگی اسی طرح اگر فرائض کی کمی ہو تو نوافل اُسے پر کر دیتے ہیں اور اگر کمی نہ ہو تو