خطبات محمود (جلد 5) — Page 222
خطبات محمود جلد (5) ۲۲۲ بہت ہوشیاری پید ا کریں۔اور دعائیں کریں۔جس طرح استقلال کی ہر ایک کام میں ضرورت ہوتی ہے اسی طرح دعا میں بھی ہے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں۔جو چند دن دعا کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔پھر مساجد میں بہت سی لغو باتیں اور بیہودہ جھگڑے کئے جاتے ہیں۔حالانکہ مسجد میں ذکر الہی اور دینی امور کے لئے ہیں۔اسی طرح بہت سی باتیں ہیں جو بظاہر چھوٹی معلوم ہوتی ہیں مگر ان کی وجہ سے آہستہ آہستہ دل پر زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے جس طرح ایک چھوٹی نیکی بڑی نیکی کا موجب ہوتی ہے اسی طرح چھوٹی بدی بڑی بدی کا باعث ہوتی ہے۔تم لوگ ان باتوں میں اصلاح کرو۔اور اپنے اندر عاجزی اور فروتنی کا مادہ پیدا کرو۔تا کہ اگر خدا کا غضب ہو تو ٹھنڈا ہو جائے۔یہ بیماریاں اور مشکلات بلا وجہ نہیں آرہیں۔جماعت کا کوئی نہ کوئی حصہ ضرور ایسا ہے جس کی وجہ سے یہ تکالیف ہیں۔اس لئے اصلاح کرو۔اور دعاؤں پر خوب زور دو۔جب تمہارے سامنے دو چیزیں ہیں۔ایک خدا کا غضب اور دوسرے اس کا رحم۔تو تم اچھی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔اس کے حصول کے لئے دعائیں کرو۔اور بہت کرو۔اور عاجزی بھی پیدا کرو۔صرف دعا اس وقت تک کوئی نتیجہ نہیں پیدا کرتی جب تک کہ اس کے ساتھ عاجزی نہ ہو۔ایک پگھلا ہوا اور گداز قلب اگر غلطی کرتا ہے تو بھی اسے خدا کے حضور گرنے کا موقعہ مل جاتا ہے اس لئے وہ آئندہ اس قسم کی غلطی سے بچ جاتا ہے۔آجکل ہیضہ بہت پھیلا ہوا ہے ایسے غضب کے دنوں میں بہت بڑی توجہ کی ضرورت ہے تا کہ تم پر خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہو۔جب فضل نازل ہو جائے تو پھر اس کا غضب ہٹ جاتا ہے کہ رحم اور غضب دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے رحمتِی وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷ ) میری رحمت ہر شے پر چھائی ہوئی ہے۔حتی کہ دوسری صفات پر بھی غالب ہے تو جب خدا کی رحمت آتی ہے سب بلائیں ٹل جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا کہ مجھے آگ سے مت ڈراؤ۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے۔تو آگ سے کس وقت ڈر نہیں؟ جبکہ اپنے آپ کو غلام بناؤ تم اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے حضور اور نبیوں کے احکام کے آگے عبد کی طرح بناؤ۔پھر کوئی چیز تمہارے لئے روک نہیں ہو سکے گی۔نہ تم پر مصائب آئیں گے نہ بیماریاں غالب