خطبات محمود (جلد 4) — Page 88
خطبات محمود جلد ۴ ۸۸ سال ۱۹۱۴ء قانون قدرت ہے کہ مختلف حالتوں کے ماتحت اشیاء تبدیل ہوتی رہتی ہیں مثلاً غلہ ہے اس کو اگر انسان استعمال نہ کریں تو کچھ مدت میں گل سڑ کر خراب ہو جاتا ہے۔بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ایک وقت تو پسندیدگی کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں لیکن دوسرے وقت میں انہی سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے اور وہ پسندیدگی اور نفع رسانی کے قابل نہیں رہتیں۔ہر زمانہ میں نبی آئے لیکن ان کے بعد کے آنے والے نبیوں نے ان کی شریعتوں کو منسوخ کیا۔ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کو موسیٰ علیہ السلام نے منسوخ کیا۔ویدوں کی شریعت کو رامچندر جی نے منسوخ کیا۔اسی طرح قرآن شریف نے پہلی سب کتابوں پر عملدرآمد کرنے کو منسوخ کردیا لیکن ان کے منجانب اللہ ہونے سے انکار نہیں کیا۔وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ ہے۔ایک وہ شخص ہوتا ہے جس نے کسی چیز کا مزا ہی نہ چکھا ہو۔مثلاً یورپ میں آم نہیں ہوتا۔اس لئے اگر ہم کسی یورپین کو بتائیں کہ آم کا یہ مزا ہوتا ہے تو اگر وہ انکار کر دے تو گو وہ جھوٹا ہے لیکن وہ معذور بھی ہے۔لیکن اگر کوئی ہندوستانی اس بات سے انکار کرے تو وہ اس کی نسبت زیادہ جھوٹ کا مرتکب ہوگا۔اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ کو فرماتا ہے کہ تم نے تو خدا کی کتابوں کا مزا چکھا ہوا ہے تم الہام کو مانتے ہو شریعت کو مانتے ہونبیوں کو مانتے ہو تو پھر تمہاراحق نہیں کہ تم پہلے پہل انکار کر دو۔وَلَا تَشْتَرُوا بِايْتي ثَمَنًا قَلِيلًا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میری تعلیموں کا تھوڑا مول کیوں لیتے ہو۔کیا تم مجھ سے نہیں ڈرتے۔جب کوئی قوم گندی ہو جاتی ہے تو خدا کی آیتوں کے اپنے خیالی معنے بنانے شروع کر دیتی ہے۔مسلمان دکاندار جو قرآن شریف فروخت کرتے ہیں یہی آیت سنا کر جاہل لوگوں سے آنوں کی بجائے روپے وصول کرتے ہیں۔اگر کوئی قرآن شریف کی قیمت ۱۰ آنے یا ۱۲ آنے کہے تو کہتے ہیں تو بہ تو بہ ! خدا کے کلام کی اتنی تھوڑی قیمت حالانکہ قرآن شریف میں عمنا قلیلا کے معنے خداوند تعالیٰ نے خود فرما دیئے ہیں کہ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِیل ۳ یعنی دنیا میں جو کچھ بھی ہے قلیل ہے۔اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ تم دین کو بیچ کر دنیا نہ لو۔آج کل مسلمان چند آنوں کے بدلے قرآن شریف اٹھانے کے لئے کچہریوں کے دروازوں پر پھرتے رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے اہل کتاب! جب تم کو میری تعلیم سچی معلوم ہوئی ہے تو دنیا کی خاطر اس کو نہ چھوڑو تم کو اگر اس کی وجہ سے اپنا وطن ، دین ، مال اور اولا د چھوڑنی پڑے تو کوئی پرواہ نہ کرو۔کیونکہ یہ چیز میں تم کو کوئی فائدہ