خطبات محمود (جلد 4) — Page 87
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء تصدیق کرتا ہے اس لئے تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ قرآن ہمارے سامنے ہمارے عقائد کو بڑے اور جوش دلانے والے رنگ میں پیش کرتا ہے اس لئے ہم مان نہیں سکتے تم کو تو ہماری کتاب پر غور کرنے کا بڑا موقع تھا اور تم ٹھنڈے دل سے اس پر غور کر سکتے تھے۔اگر ایک یہودی ایک عیسائی کو تبلیغ کرے تو اس کو کہنا پڑے گا کہ انجیل خدا کی کتاب نہیں ہے۔اسی طرح اگر ایک عیسائی ہندو کو تبلیغ کرے تو وہ وید کو جھوٹا کہے گا اور وہ یہ بھی کہے گا کہ تم میں کوئی نبی نہیں آیا لیکن قرآن شریف ایسا نہیں کہتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ وَاِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ كوئى ايسى امت نہیں جس میں کہ نبی نہ آیا ہو۔اس لئے قرآن شریف کا مانے والا یہ کبھی نہیں کہے گا اور مذہب والوں میں کوئی نبی نہیں آیا۔وہ تو جب یہ سنے گا کہ کوئی قوم کہتی ہے ہم میں فلاں نبی آیا۔تو وہ کہیں گے سبحان اللہ ! اس سے تو قرآن شریف کی صداقت ثابت ہو رہی ہے۔باقی تمام مذاہب کو مشکلات پیش آ رہی ہیں کہ نئے نئے مذہب نکلتے آتے ہیں۔لیکن کئی لاکھ نہیں بلکہ اگر کئی کروڑ بھی مذاہب پیدا ہو جا ئیں تو بھی قرآن شریف کے ماننے والے کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ قرآن شریف کہتا ہے کہ ہر ایک مذہب میں نبی آئے ہیں اس لئے اس کو کسی نبی کو نبی ماننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی۔اگر غور کیا جاوے تو بڑے غضب کی بات معلوم ہوتی ہے کہ جب سورج ، ہوا، پانی، زمین اور دیگر خدا کے انعامات سے دنیا کا ہرا ایک فرقہ بلا کسی خصوصیت کے یکساں طور پر فائدہ اٹھاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ کوئی فرقہ کسی نبی کی ہدایت سے محروم رکھا جائے جو کہ خدا کے انعاموں میں سے ایک انعام ہے۔ہم نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی کسی کو یہ کہنے کا حق ہے کہ قرآن سے پہلے کوئی الہامی کتاب نہ تھی۔یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا۔کیا وہ خدا کے بندے نہیں تھے جو اس انعام سے محروم رکھے جاتے۔ہر ایک مذہب میں جو جو نبی آئے ہیں اور جو جو کتابیں ان پر نازل ہوئیں قرآن ان سب کی تصدیق کرتا ہے۔تو جب قرآن ان کی تصدیق کرتا ہے تو اے اہل کتاب ! تم ایسی سچی کتاب کو کیوں نہیں مانتے اور کیوں اس پر عمل نہیں ہے کرتے۔پہلی کتابوں کو سچا ماننا اور بات ہے اور ان کی شریعتوں پر عمل کرنا اور بات ہے۔کیونکہ شریعت ایک قانون ہوتا ہے۔جس طرح ایک متانون دوسرے قانون کے نافذ ہونے کی وجہ سے منسوخ ہو جاتا ہے اسی طرح پہلی شریعت دوسری شریعت سے منسوخ ہو جاتی ہے۔یہ