خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 524

خطبات محمود جلد ۴ ۵۲۴ سال ۱۹۱۵ء کیا ہم نے زمین و آسمان یونہی پیدا کر دیئے تھے اور ان کی غرض و غایت نہ تھی نہیں بلکہ اس کے ہر کام میں بڑی بڑی حکمتیں مخفی ہیں جنہیں ہر ایک نہیں سمجھ سکتا۔اس کی حکمت کو نہ سمجھنے سے ہی دنیا میں بہت سے مذاہب قائم ہوتے ہیں جو خدا کے دین کے بہت دور جا پڑتے ہیں۔اور یہ کفار کا گمان ہے۔کیونکہ وہ بھی ان کا موں کو یو نہی لغو سمجھتے ہیں وہ ان پر غور نہیں کرتے۔فرمایا اگر وہ غور نہیں کریں گے تو ہم ان کو ہلاک اور تباہ کر دیں گے۔اور ان کا نام دنیا سے مٹادیں گے۔پھر یہ کہنا کیوکر صحیح ہوسکتا ہے کہ ہمارا عقیدہ اور ان کا عقیدہ برابر ہے۔وہ لوگ تو بڑی سزا کے مستحق ہیں۔کیا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خدا کے احکام کو ماننے والے اور نہ ماننے والے برابر ہوں ؟ اگر یہ دونوں مساوی ہی ہوئے تو پھر ان اشیاء کا پیدا کرنا بالکل لغو اور فضول ٹھہرتا۔یہ بھی ممکن ہی نہیں کہ ایک مومن اور ایک کا فر دونوں برابر ہوسکیں۔ایک تو خدا سے تعلق رکھنے والے ہیں اور ایک اس سے تعلق کو کاٹنے والے۔پس ی جو لوگ اس غرض و غایت کو نہیں سمجھتے اور امتیاز نہیں کر سکتے وہی تو کافر ہیں لیکن بعض کا فر اس بات کے مدعی ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے کاموں پر غور و تدبر کرتے ہیں مگر در حقیقت وہ اپنے اعمال سے ثابت کرتے ہیں کہ ہم غور و تدبر نہیں کرتے۔پس جب انہوں نے اپنے حال سے اس بات کا ثبوت دے دیا تو گویا انہوں نے خدا کی ان پیدا کردہ اشیاء کو ایک فضول اور لغو کام خیال کیا۔مسلمانوں میں بھی اس قسم کے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ خدا تعالی کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہے اور ہر ایک چیز کی کوئی غرض اور فائدہ ہے مگر جب جھوٹی بولتے ، زنا کرتے ،شراب پیتے اور قتل کرتے ہیں تو وہ اپنے اعمال اور افعال سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ خدا کا ہر کام لغو اور فضول ہے۔ایسے ہی احمد یوں میں بھی بعض ایسے لوگ ہیں جو صداقتوں کے مدعی تو ہیں اپنے آپ کو ایک امام کا متبع سمجھتے ہیں مگر انہیں جھوٹ بولنے اور افتراء باندھنے سے ذرا دریغ نہیں ہوتا۔اور نہ وہ خدا کا خوف کرتے ہیں۔چنانچہ ابھی چند دنوں کا ذکر ہے کہ ان میں سے ایک شخص نے یہ لکھ دیا کہ فلاں شخص نے مباہلہ کیلئے کہا تھت اور چیلنج دیا تھا مگر تم نے قبول نہیں کیا۔حالانکہ نہ کسی نے ہمیں کوئی چیلنج دیا اور نہ کسی نے مباہلہ کیلئے کہا اور جن کی نسبت لکھا ہے کہ انہوں نے مباہلہ کیلئے چیلنج دیا ، ان کے خطوط ہمارے پاس آگئے ہیں کہ ہم نے کوئی مباہلہ کا چیلنج نہیں دیا۔پھر عبد الحئی کی کی وفات پر ایسے ایسے جھوٹ لکھے ہیں کہ حیرت اور تعجب ہوتا ہے ان لوگوں کو خدا تعالیٰ پر ایمان