خطبات محمود (جلد 4) — Page 525
خطبات محمود جلد ۴ ۵۲۵ سال ۱۹۱۵ء اور یقین بھی ہے یا نہیں۔ذرا بھی خدا تعالیٰ سے خوف نہیں کرتے۔کیا غیور خدا ان کے سر پر نہیں ؟ اور ضرور ہے۔وہ دن آتے ہیں کہ خدا کی غیرت اپنا نمونہ دکھائے گی اور انہیں ان کے جھوٹوں اور بہتانوں کی سزا چکھائے گی۔پھر ہر دوست اور دشمن دیکھ لے گا کہ خدا کا ہاتھ کن کے ساتھ ہے۔یہ لوگ اپنی غرض کو پورا کرنے کیلئے ایسے ایسے جھوٹ بولتے ہیں کہ تعجب ہوتا ہے۔قادیان میں بھی بعض منافق طبع لوگ ہیں جو بظاہر بڑا اخلاص اور محبت ظاہر کرتے ہیں مگر ان کے تعلقات اور خط و کتابت ان لوگوں سے اب تک جاری ہے وہ بھی اپنے آپ کو احمدی ہی کہتے ہیں۔ایسے لوگ خدا تعالیٰ کو لغو اور فضول سمجھتے ہیں اس لئے وہ خدا تعالیٰ سے کسی فائدہ کی امید نہ رکھیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے بعض منافقوں کی شکلیں اندھیرے میں دکھائی ہیں۔وہ منافق طبع لوگ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے اگر ہم حق پر ہیں اور یقینا حق پر ہیں تو خود کیا، اگر ان کے ساتھ بادشاہ بھی مل جائیں اور ہمارا کچھ بگاڑ نا چاہیں تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔بھلا منافق ڈرپوک ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟؟ در حقیقت ایسے لوگ اپنی تباہی کیلئے خود ہی سامان مہیا کر رہے ہیں اور وہ خود اپنے اور آپ کو تباہ اور بر باد کرتے ہیں اور اس کے مقابل خدا تعالیٰ کے ملائکہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔ان کو منافق بننے کی کیا ضرورت ہے اب وہ کس سے ڈرتے ہیں وہ اپنی دنیا کیلئے دین کو کیوں تباہ کر رہے ہیں کیا ان کو قادیان سے باہر دنیاوی مفاد نہیں مل سکتے جب گورنمنٹ نے اس قدر آزادی دے رکھی ہے ہر جگہ امن و آرام کے ساتھ وہ ملازمت کر سکتے ہیں۔ایسے لوگوں کو با ہر ہر طرح کی ملازمت مل سکتی ہے۔پھر وہ تھوڑے سے فائدہ کیلئے اپنے ایمان کو کیوں ضائع کرتے ہیں۔عبداللہ بن ابی ابن سلول منافق سے یہ لوگ منافقت میں یہ لوگ بڑھ کر ہیں کیونکہ وہ تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ اگر میں نے مسلمانوں کے خلاف کیا تو مجھ پر تلوار چل جائے گی مگر اب ان منافقوں پر کون سی تلوار ہے جو ان کو ایسے کاموں پر مجبور کر رہی ہے۔پس ایسے لوگ دین کو بھی ضائع کرتے ہیں اور دنیا کو بھی۔ایسے لوگ در حقیقت خدا کے کاموں کو لغو سمجھتے ہیں ہم انسان ہیں ہم سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں مگر ہماری غلطیوں کو چھپانے کیلئے خدا تعالیٰ ہم پر ایسے الزام لگواتا ہے جن کو ہم نے کیا نہیں۔پس ہم اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ ہماری غلطیوں کے بدلے میں ہمارا دشمن ہمیں وہ الزام دیتا