خطبات محمود (جلد 4) — Page 523
خطبات محمود جلد ۴ ۵۲۳ سال ۱۹۱۹ء چوکیدار ملازم ہو کر تنخواہ کیلئے پھرتا ہے، اس کا نام تو دیانتدار رکھا جاتا ہے مگر بلا غرض و مدعا پھرنے والا مجنون سمجھا جاتا ہے۔اور اسی کام کے کرنے سے وہ پاگل کہلا تا ہے۔ایک کاپی نویس جو اپنے کام کی اُجرت لے کر دن بھر لکھتا رہتا ہے اور ایک مزدور جو صبح سے شام تک مزدوری لے کر ادھر سے ادھر مٹی پھینکتا رہتا ہے اسے پاگل نہیں کہتے۔مگر وہ جو بلا مزدوری لئے مٹی کو ادھر سے ادھر اٹھا اٹھا کر پھینکتا ہے اسے سب پاگل کہتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مزدور کے کام کرنے میں ایک فائدہ اور غرض مد نظر ہے مگر اس کے بالمقابل پاگل شخص کے کام کرنے میں کوئی فائدہ اور غرض نہیں۔ایک محزر کو اس کی تحریر کی وجہ سے محنتی اور ہوشیار کہیں گے۔مگر سارا دن بلا غرض و بلا فائدہ لکھنے والے کوسب پاگل ہی کہیں گے۔ایسے ہی بلا وجہ زیادہ با تیں کرنے والے کو بھی پاگل ہی کہتے ہیں۔مگر وہ لیکچرار جو صبح سے شام تک ایک پر مطالب اور پر مقصد اور پر مغز لیکچر دیتا ہے اسے کوئی پاگل نہیں کہتا۔میں نے ایک جگہ پڑھا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں بعض لوگ ۲۴ گھنٹے تک تقریر کرتے رہتے ہیں۔پھر ان دونوں تقریر کرنے والوں میں کتنا بڑا فرق ہے۔ایک شخص کی پر مقاصد تقریر تو سینکڑوں اخباروں میں شائع کی جاتی ہے۔اور اس سے ہزاروں فائدے مرتب ہوتے ہیں مگر بلا فائدہ اور بلا غرض سارا دن تقریر کرنے والے کو پاگل ہی کہا جاتا ہے۔غرض اگر کوئی کسی مدعا اور مقصد کو مدنظر رکھ کر کسی دینی یا دنیاوی خدمت کو سر انجام دے گا تو اسی کو خادم اور محنت کرنے والا خیال کیا جائے گا۔اور اس کے مقابل اگر کوئی شخص بغیر کسی غرض کے کوئی کام کرتا ہے تو وہ پاگل کہلاتا ہے۔جب ایک فہیم انسان کسی ایسے کام کو جو بلا غرض ہو نہ خود کرتا ہے اور نہ اس کی طرف منسوب کئے جانے کو پسند کرتا ہے تو پھر وہ خدا جو حکیم اور خبیر ہے۔اس نے یہ سورج چاند ستارے پلا کسی غرض اور مدعا کے پیدا کر دیئے ہیں؟ یہ چیزیں اس نے کیوں پیدا کیں۔انسان کو آنکھ ، کان ، زبان ، دل اور دماغ کیوں دیئے؟ یہ قوتیں کیوں دیں؟ لوگ اسے سمجھتے نہیں بلکہ اس طرف توجہ بھی نہیں کرتے۔پس وہ اپنا کام یہی سمجھتے ہیں کہ دنیا میں آئے کھایا پیا اور چل دیئے اپنے افعال پر تو غور کرتے ہیں۔مگر خدا کے افعال پر غور و تد بر بلکہ توجہ بھی نہیں کرتے جب تم خود ایسا لغو کام اپنی ذات کیلئے پسند نہیں کرتے تو خدا کی ذات کیلئے کیوں ایسی بات پسند کرتے ہو۔اس آیت کریمہ میں جو میں نے تلاوت کی ہے خدا تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ