خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 522

خطبات محمود جلد ۴ ۵۲۲ (۹۳) اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں بڑی بڑی حکمتیں مخفی ہیں (فرمودہ ۱۷۔دسمبر ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۹ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں:۔مَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا، ذلِكَ ظَنُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ للَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَم نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَارِ كِتَب أَنْزَلْنَهُ مُبرَكَ لِيَدَّبَّرُوا ايْتِهِ وَلِيَتَذَكَرَ أولُوا الْأَلْبَابِ اور پھر فرمایا:۔کوئی عقل مند انسان یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ ایسا کام کرے جس کی کوئی غرض اور مدعا نہ ہو۔اور نہ یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی ایسا فعل جس کی کوئی غرض اور غایت نہ ہو اس کی طرف منسوب کیا جائے۔انسان جس قدر عقل میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے اسی قدر ہر فعل میں زیادہ غور و فکر کرتا ہے۔اور اس میں کوئی ایک غرض مد نظر رکھ کر اپنی منشاء اور ارادے سے غور کرتا ہے۔خواہ تعلیم کو حاصل کرے، خواہ ملازمت یا کوئی اور پیشہ کرے۔خواہ دوست بنائے خواہ دشمن ، شادی کرے یا کوئی اور کام ایسا انسان جس کے دل میں کوئی غرض نہ ہو اور اس کا ہر ایک کام بلا غرض ہوا سے پاگل کہا کرتے ہیں۔وہ شخص جو دن اور رات ہلا غرض و مدعا پھرتا رہے، اسے سب پاگل کہتے ہیں۔مگر چوکیدار جو کہ تنخواہ بھی لیتا اور لوگوں کی حفاظت کیلئے پھرتا بھی ہے اسے کوئی پاگل نہیں کہتا۔پھرنے میں تو دونوں برابر ہیں۔مگر