خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 495

خطبات محمود جلد ۴ ۴۹۵ سال ۱۹۱۵ء کہلا سکتی ہے۔اگر ایک سو جا کھا آنکھیں رکھتے ہوئے آنکھوں سے فائدہ نہ اٹھائے تو گووہ دنیا کو سوجا کھات ہی نظر آتا ہو مگر ہے وہ اندھا بلکہ اس اندھے سے جو فی الواقعہ بینا نہیں اس کی حالت زیادہ قابل رحم ہے کیونکہ وہ آنکھیں رکھتے ہوئے آنکھوں کے فوائد سے محروم ہے اور یہ بیچارہ تو سرے سے آنکھیں رکھتا ہی نہیں اس لئے اگر یہ فوائد سے محروم ہے تو تعجب یا حیرت کی بات نہیں۔ایک انسان جسے یقین ہو کہ میں حق پر نہیں اس سے وہ زیادہ قابل رحم ہے جو نا حق پر ہے اور سمجھتا ہے کہ میں حق پر ہوں۔ایسا بیمار جسے یقین ہو کہ میں بیمار ہوں اس کا علاج آسان ہے لیکن جو یہ بھی تسلیم نہ کرتا ہو کہ میں بیمار ہوں بلکہ باوجود بیماری کے اپنے آپ کو تندرست سمجھتا ہو اس کا علاج زیادہ مشکل ہے۔اسی طرح جو لوگ جانتے ہیں کہ ہماری روحانیت مرچکی ہے پھر جان کر مُردہ کی حالت میں رہتے ہیں ان سے ان لوگوں کی حالت زیادہ خطر ناک ہے جو سمجھتے ہیں کہ ہم زندہ ہیں حالانکہ وہ مردہ ہیں۔اس آیت میں مومن اور کافر کو زندہ اور مردہ قرار دیا ہے۔پھر دوسرا فرق مومن اور کافر میں یہ بتایا کہ مومن نور میں ہے اور کافر اندھیرے میں۔آوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا تیمش به۔مُردہ اور زندہ اور نور اور اندھیرے والے شخص میں جو نسبت ہے وہی نسبت کا فراور مسلم میں ہے ، مردہ انسان ہر ایک دنیاوی ضرر سے محفوظ ہے۔زندہ تکلیف اٹھاتا ہے اگر اس کا کوئی عضو ٹوٹ جائے تو اسے دکھ پہنچتا ہے۔مُردہ اس قسم کی تکلیف سے بچا ہوا ہے لیکن زندہ اپنے دوستوں کی مدد کر سکتا ہے۔مُردہ اپنے پیاروں کی مدد نہیں کر سکتا۔اسی طرح نور میں بیٹھنے والا خود سمجھ سکتا ہے کہ مجھے یہ ضرر پہنچنے لگا ہے تاریکی میں بیٹھا ہوا یہ نہیں سمجھ سکتا۔انسان کے دو تعلق ہیں ایک اپنی ذات سے اور ایک دوسروں سے۔آوَمَنْ كَانَ مَيْتًا میں بتایا ہے کہ مومن کے دونوں تعلقات درست ہوتے ہیں وہ ایک زندہ کی طرح اپنی ذات کو بھی ضرروں سے بچاتا ہے اور دوسروں کو بھی نفع پہنچاتا ہے اور کا فر مردہ کی طرح نہ خود ضرر سے بچ سکتا ہے نہ اپنے عزیزوں کو نفع پہنچا سکتا؟ اپنے اور کافر ہے۔اب ہر ایک شخص جو ایمان کا دعویدار ہے وہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھے کہ آیا یہ دونوں باتیں اس میں پائی جاتی ہیں یا نہیں۔اگر پائی جاتی ہیں تو وہ ایک زندہ اور نور میں بیٹھنے والے کی طرح ہے ورنہ مردہ اور تاریکی میں گھرے ہوئے کی مانند ہے۔اگر اس کے احساسات تیز ہیں کہ اپنے اور دنیا کیلئے نفع رساں ہو اور اچھی اور بُری بات کو سمجھ سکے، حق و باطل ، نیکی و بدی میں تمیز