خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 496

خطبات محمود جلد ۴ ۴۹۶ سال ۱۹۱۵ کر سکے۔اور اسے بدیاں ایسی نظر آتی ہوں جیسے روشنی میں مختلف رنگوں خصوصا سفید وسیاہ کے درمیان تمیز ہوسکتی ہے تو بے شک وہ اپنے دعوے میں سچا ہے۔اور اگر وہ ایک مردہ یا اندھیرے میں بیٹھنے والے کی طرح ایسی حالت میں ہے کہ نہ وہ اپنی ذات کو نفع پہنچا سکتا ہے نہ لوگوں کو تو اس کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیئے کہ جس بات کا وہ دعویٰ کرتا ہے وہ اس میں نہیں۔وہ سوچے کہ لوگ تو مجھے زندہ اور نور میں سمجھتے ہیں مگر میں مردہ اور اندھیرے میں ہوں۔بصارت اور بصیرت کی غرض تو نفع و نقصان میں فرق ہے اور انسان کو جو یہ حیوۃ ملی ہے تو اس کی غرض یہی ہے کہ وہ اپنے نفس کیلئے فائدہ حاصل کر کے پھر دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائے۔اگر امتیاز کی طاقت اور نفع رسانی کی خواہش نہیں تو وہ انسان نہیں بلکہ حیوان محض ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو جو مؤمن اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک مامور کے ماننے والے ہیں اس پر بہت زیادہ غور کرنا چاہیئے کہ واقعہ میں وہ زندہ ہیں اور نور میں ہیں یا صرف زبانی دعوی ہی دعویٰ ہے کیا جیسے وہ خدا کے کلام سے زندہ ہوئے فی الواقعہ تاریکی سے نور میں آگئے ہیں یا ابھی ان کی روحوں میں ظلمات کے اثرات باقی ہیں اور بعض اعضاء میں ابھی ایسی ہی مُردنی ہے جیسی پہلے تھی۔فرداً فرداً تو میں نہیں کہتا مگر جماعت کی حیثیت سے میں دیکھتا ہوں کہ ان میں بہت کو تا ہی ہے۔ایک زندہ میں جو احساسات ہونے چاہئیں وہ پورے طور پر ہماری جماعت میں ابھی نظر نہیں آتے۔ان میں ابھی وہ روح پیدا نہیں ہوئی کہ ایک سرے سے دوسرے تک فرد واحد کا حکم رکھیں۔ان کیلئے ضروری ہے کہ جس طرح زندہ اپنے ایک عضو کی تکلیف محسوس کرتا ہے اسی طرح وہ اپنے ایک ایک فرد کی تکلیف کا احساس کریں۔کسی جسم کا ایک حصہ مرجائے تو اس کو پتہ نہیں لگتا ، پھکیاں لو تو بھی وہاں خبر نہیں ہوتی۔لیکن زندہ اعضاء کا یہ نشان ہے کہ ایک حصہ پر کوئی تکلیف ہو تو تمام حصص جسم میں برقی رو کی طرح وہ تکلیف دوڑ جاتی ہے۔پس میں جماعت میں بھی یہی روح دیکھنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی جگہ ایک کو تکلیف ہو تو اس سے اسے اُس سرے تک تمام جماعت اس تکلیف اس دُکھ کو محسوس کرے۔گویا جماعت بمنزلہ ایک جسم کے ہو جس میں کئی روحیں داخل ہیں یا ایک روح ہے جو مختلف جسموں میں ہے۔دیکھو جسم پر ایک جگہ پھوڑا ہو تو تمام بدن اس تکلیف کو محسوس کر کے تپ میں گرفتار ہو جا تا ہے ، یہ زندگی اور اتحاد کا نشان ہے۔پاؤں میں کھجلی ہو تو ہاتھ مدد کو دوڑتا ہے۔سر پر مار ہے۔کی