خطبات محمود (جلد 4) — Page 494
خطبات محمود جلد ۴ ۴۹۴ (۸۹) اپنے اندر زندگی کی علامات پید ا کرو (فرموده ۵- نومبر ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمتِ لَيْسَ بِخَارِجِ مِنْهَا كَذلِكَ زُيِّنَ لِلْكَفِرِيْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ اس کے بعد فرمایا:۔ایک لطیفہ ہے۔کہتے ہیں کسی بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا دنیا میں اندھے زیادہ ہیں یا سوجا کھے؟ وزیر نے کہا اندھے زیادہ ہیں۔بادشاہ نے کہا ہم تو سو جا کھے زیادہ دیکھتے ہیں اچھا فہرست بناؤ۔وزیر ایک جگہ شارع عام پر بیٹھ گیا اور کچھ ایسا کام کرنے لگا جو اس کی شان کے شایاں نہ تھا اب جو گذرتا اس سے پوچھتا کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ اور وہ اس کا نام اندھوں میں لکھ لیتا کیونکہ جو کچھ وہ کر رہا تھا وہ تو نظر آ رہا تھا۔عوام تو خیر خود بادشاہ نے بھی یہی سوال کیا اس لئے وزیر نے فہرست میں بادشاہ کا نام سب سے اوپر لکھ لیا۔یہ قصہ سچ ہے یا سبق دینے کیلئے لطیفہ ہے بہر حال ہے نتیجہ خیز۔اس آیت میں ایمان سے خالی کا نام مُردہ رکھا ہے اور اس رنگ میں دیکھیں تو اکثر ایمان رکھنے کے مدعی مُردہ نظر آتے ہیں۔کیونکہ در حقیقت زندگی وہی ہے جس میں فہم و فراست ہو۔زندگی کے جو منافع ہیں جب تک وہ حاصل نہ ہوں زندگی کیسی اور کیونکر