خطبات محمود (جلد 4) — Page 360
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء دنیا کے امراء اور بادشاہ ہوں ، خواہ بڑی بڑی حکومتوں اور سلطنتوں والے ہوں اور خواہ عوام الناس ہوں کوئی بھی ان میں سے ایسی طاقت نہیں رکھتا جو اللہ کی سزا اور گرفت کے مقابلہ میں سزا اور گرفت کر سکے۔سو اس بات کو یاد رکھنا چاہئیے کہ جب تک انسان کا ایمان ان دونوں دیواروں کے اندر نہ آجائے اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا بلکہ خطرہ میں رہتا ہے کیونکہ کامل ایمان اسی وقت ہوتا ہے جبکہ یہ دونوں باتیں پیدا کی جائیں ایک خوف کے اسباب دوسرے طمع کے سامان۔چونکہ انسان کے کمال کا ظہور اُس وقت تک نہیں ہے ہوسکتا جب تک ایمان کامل نہ ہو۔اور ایمان کامل اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک خوف اور طمع کے درمیان نہ ہو اس لئے خدا تعالیٰ کی یہ قدیم سے سنت ہے کہ جس قوم یا جس جماعت کو وہ ترقی دینا چاہتا ہے یا جس انسان کا درجہ بلند کرنا چاہتا ہے اس کیلئے یہ دونوں قسم کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ لوگ جہاں دنیا میں سب سے بڑے مُنْعَمُ عَلَيْهِ ہوتے ہیں اور جہاں خدا تعالیٰ کے افضال کی ان پر ہر وقت بارش ہوتی ہے وہاں دوسرے لوگوں کی نسبت انہیں زیادہ خطرناک ابتلاؤں میں سے بھی گزرنا پڑتا ہے یہ دیکھ کر نادان انسان کہ دیتا ہے کہ جس طرح اور لوگ دکھ اور تکلیف میں پڑے ہوئے ہیں اسی طرح یہ بھی ہے اس لئے ہمیں کس طرح معلوم ہو کہ یہ خدا کا برگزیدہ ہے لیکن اگر کوئی غور کرے تو اسے معلوم ہو جائے کہ ان کیلئے ابتلاؤں کے سامان ان کے درجہ کی بلندی اور ایمان کی ترقی کیلئے ہوتے ہیں کیونکہ مومن کی ترقی اسی طرح ہوتی ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ ایک طرف ایمان میں ترقی دینے کے لئے طمع کے سامان مہیا فرماتا ہے تو دوسری طرف ان کے راستہ میں مشکلات کی گھاٹیاں بھی لاتا ہے تا کہ اگر ایک پہلو سے طمع ہو تو دوسرے پہلو سے خوف سے باہر نہ نکل جائیں۔سورۃ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے جو دعا سکھائی ہے اس میں بھی اسی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّين ۲؎ یعنی وہ رب العلمين جو رحمن اور رحیم ہے اور وہ خدا جس نے اعمال کو دیکھ کر جزاء وسزا دینی ہے ہم اس کی حمد کرتے ہیں۔اس آیت میں ایک طرف رحمن اور رحیم صفات کو بیان فرما یا تو دوسری طرف ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ بھی فرما دیا۔ان کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ یہ صرف صفات الہیہ ہی ہیں یا دنیا کا تجربہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے اس لئے فرما یا یہ صفات ہی نہیں