خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 359

خطبات محمود جلد ۴ ۳۵۹ (<•) خوف اور طمع کے بغیر ایمان کامل نہیں ہو سکتا (فرموده ۲۸ مئی ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے جو قدیم سے چلی آتی ہے کہ وہ ہر انسان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر قوم اور ہر جماعت کے ساتھ اپنے معاملہ میں ایسا طریق اختیار فرماتا ہے کہ ہر ایک انسان اور ہر ایک قوم کی توجہ ایک طرف ہی نہ لگ جائے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے کہ مومن کا ایمان اُسی وقت کامل اور اُسی وقت نفع رساں ہوتا ہے جبکہ وہ خوف اور طمع کے درمیان ہو جیسا کہ فرمایا تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْهُم يُنْفِقُونَ اس کے نتیجہ میں فرمایا: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةٍ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔تو وہ ایمان کامل جو نفع رساں اور بہتری کا موجب ہو وہ وہی ہوتا ہے جو خوف اور طمع کے درمیان ہو اور دونوں باتوں کے بین بین ہو۔یعنی اگر ایک طرف اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ، رحیمیت، فضل ، ربوبیت اور کرم پر نظر ہو اور انسان یہ خیال کرے کہ جس قدر دنیا کی مہربان ہستیاں ہیں ان کی محبت اور مہربانی خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی ہستی نہیں رکھتی تو دوسری طرف وہ اس فکر میں بھی لگا ر ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کی اصلاح کیلئے کبھی کبھی سزا بھی دیتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ سے بڑھ کر دُنْیا وَمَا فِيهَا میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو خدا کی سزا کے برابر سزا دے سکے ، خواہ وہ علماء اور حکماء ہوں، خواہ ایجاد و اختراع کرنے والے ہوں، خواہ کی