خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 361

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء بلکہ تجربہ بتا تا ہے کہ اگر ایک طرف فضل الہی نازل ہورہے ہوں، انعام واکرام کی بارش ہو رہی ہے اور آرام اور سکھ مل رہے ہیں تو دوسری طرف غضب الہی بھی ہے جو خدا کے احکام کے توڑنے والوں پر گرتا ہے۔اور یہ دونوں قسم کی باتیں ثابت کر رہی ہیں کہ اگر ایک جماعت خدا تعالیٰ کے دروازے کی طرف جارہی ہے تو دوسری اس دروازے کے راستہ سے بھٹک کر واپس آرہی ہے۔پس یہ بات یادرکھنی چاہئیے کہ انسان کی ترقی کیلئے ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے کیونکہ ایمان اُس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ خوف اور طمع دونوں کے وقت ایمان ترقی نہ کرے اور اگر کوئی خدا کی محبت اور عشق میں ایسا چور ہو کہ ایک منٹ کیلئے بھی خدا کو نہ بھلا سکے تو دوسری طرف یہ بھی چاہئیے کہ ایک منٹ کیلئے بھی خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف کرنے کا خیال دل میں نہ لائے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کا رحم اور فضل غیر محدود ہے تو اس کا عذاب بھی بڑا سخت ہے اور اس نے اگر ایک طرف ترقی رکھی ہے تو دوسری طرف تنزل بھی رکھا ہے۔اگر نور ہے تو اس مقابلہ میں ظلمت ہے، اگر صحت ہے تو اس کے مقابلہ میں بیماری ہے، اگر خیر ہے تو اس کے مقابلہ میں شر ہے، اگر راحت ہے تو اس کے مقابلہ میں دکھ ہے۔یہ خدا تعالیٰ نے مقابلہ میں باتیں رکھی ہیں کیوں؟ اس لئے کہ انسان کی ترقی کیلئے دونوں پہلوضروری ہیں۔پس کبھی ایسا زمانہ ہوتا ہے کہ جماعت اور قوم پر راحت اور آرام آتا ہے تو ترقی کرتی ہے اور کبھی ابتلاء آتے ہیں ان میں ترقی کرتی ہے۔جو مومن ہوتے ہیں وہ دونوں حالتوں میں ترقی کرتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو راحت کے زمانہ میں تو ساتھ چلتے رہتے ہیں لیکن دکھ اور تکالیف کے زمانہ میں چھوڑ کر الگ ہو جاتے ہیں مومن دونوں حالتوں میں سے گزرتا ہے۔وہ اگر ایک طرف یہ سمجھتا ہے کہ مجھ پر خدا تعالیٰ کے انعام واکرام ہوئے ہیں تو دوسری طرف دکھوں اور ابتلاؤں سے اس کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور جب وہ دونوں امتحانوں میں پاس ہو جاتا ہے یعنی آگ اور پانی سے سلامت نکل آتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا درجہ بہت بلند کر دیتا ہے۔پس مومن کو چاہئیے کہ جیسا آرام اور راحت میں خوش ہو ایسا ہی اگر ابتلاء آ ئیں تو بھی خوش ہو کیونکہ اس سے اس کی ترقی ہوگی اس طرح اسے صاف کیا جاتا ہے نہ کہ مٹایا جاتا ہے۔کیا لوہار لوہے کو بھٹی میں اس لئے ڈالتا ہے کہ جلا دے نہیں بلکہ صاف کرنے کیلئے ڈالتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی ابتلاؤں میں ڈالتا ہے تو اسی لئے کہ انسان کے