خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 308

خطبات محمود جلد ۴ ۳۰۸ سال ۱۹۱۵ء نہیں کر سکتے کہ ہم سے زیادہ کسی اور پر بھی خدا کے فضل ہیں بلکہ ہر ایک یہی خیال کرتا ہے کہ مجھ پر ہی سب سے زیادہ خدا کے انعام واکرام ہیں۔غرضیکہ اگر انسان خدا تعالیٰ کے احسانوں اور انعاموں کا مطالعہ کرے تو اس کے دل میں محبت کی ایک لہر جوش مارتی ہے جو اسے بہت بڑی بڑی قربانیوں کیلئے آمادہ کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کی ابتداء کو اللہ تعالیٰ نے یوں شروع کیا ہے اور سورہ فاتحہ جو قرآن شریف کا لب لباب ہے اس کی ابتداء اس طرح فرمائی ہے کہ الحمدُ للهِ رَبّ العلمين اتمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں جو اول تو اللہ ہے۔اللہ کے معنے خود قرآن شریف نے بتا دیئے ہیں۔لَهُ الْأَسْمَاءُ الحُسنی ہے کہ اس میں کسی قسم کی بدی اور نقص نہیں ہے۔وہ تمام خوبیوں کا جامع اور تمام تعریفوں سے متصف ہے اس لئے الْحَمْدُ لِلہ یعنی اللہ ہی کیلئے سب تعریفیں ہیں اور جب سارے نقصوں اور عیبوں سے وہی ایک ہستی ہے جو پاک ہے اور جب تمام صفات کا جامع اور تمام محامد کے لائق صرف اللہ ہی ہے تو پھر اور کس کی حمد ہو سکتی ہے، کسی کی نہیں ہو سکتی۔اور کوئی اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس کی حمد کی جائے صرف اللہ ہی ہے جس کیلئے سب تعریفیں ہیں۔پھر فرمایا یہی نہیں کہ وہ اللہ ہے بلکہ رب بھی ہے۔ایک خوبصورتی تو ایسی ہوتی ہے کہ اس کا اس چیز کی ذات تک ہی تعلق ہوتا ہے لیکن ایک وہ بھی خوبصورتی اور خوبی ہوتی ہے جس کا اثر دوسروں پر بھی پڑتا ہے اور دوسرے بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔باغوں میں جا کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ ایک ایسے پھول ہوتے ہیں جو بڑے خوبصورت ہوتے ہیں مگر خواہ ناک کی کتنی ہی قوت تیز کیوں نہ ہو ان کی خوشبو سونگھنے سے نہیں آتی لیکن ایسے بھی پھول ہوتے ہیں جو دیکھنے میں بھی خوبصورت ہوتے ہیں اور ان کی خوشبو بھی بہت عمدہ اور لطیف ہوتی ہے۔پس جس پھول کی صرف شکل اور بناوٹ اچھی ہے اور بو نہیں وہ بھی اچھا ہے۔مگر جس میں بو بھی ہے اور شکل بھی اچھی ہے وہ اور بھی اچھا اور بہت ہی اچھا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الحَمدُ لِلهِ رَبّ العلمين سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں جو سب بدیوں، سب کمزوریوں ، سب نقصوں اور سب عیبوں سے پاک ہے اور تمام خوبیوں، تمام نیکیوں اور تمام حسنوں کا جامع ہے۔پھر رب ہے۔یعنی یہی نہیں کہ اپنی ذات میں ہی اس کی ایسی خوبیاں ہیں بلکہ مخلوقات پر بھی اس کے بڑے بڑے فضل اور انعام ہیں حتی کہ اپنی مخلوق سے اس کا اتنا تعلق ہے کہ اس کی عنایت اور نوازش کے بغیر کوئی چیز زندہ ہی نہیں رہ سکتی کیونکہ وہ رب