خطبات محمود (جلد 4) — Page 307
خطبات محمود جلد ۴ ۳۰۷ (۶۳) سال ۱۹۱۵ء قرآن شریف جنت کی ایک کھڑکی ہے (فرموده ۹۔اپریل ۱۹۱۵ء) حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: خدا تعالیٰ کے ہم پر بہت ہی فضل اور احسان ہیں۔انسان اگر خدا تعالیٰ کے فضلوں ، نعمتوں اور احسانوں کو گنا اور یاد کرنا شروع کرے تو اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کی بڑی لہر جوش مارتی ہے۔جس قدر دنیا میں قربانیاں اور فدائیت کا اظہار ہو رہا ہے اس کی بناء تمام کی تمام محبت پر ہی ہے۔ایک چیز سے جب انسان کو محبت ہو جاتی ہے تو وہ اس کیلئے اپنی جان، اپنا مال اور اپنی عزت کو قربان کرنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے، اپنے عزیزوں، اپنے دوستوں ، اور اپنے وطن کی پرواہ نہیں کرتا اور جس جس قدر انسان کو کسی چیز سے محبت پیدا ہوتی جاتی ہے اسی اسی قدر وہ اس محبت والی چیز کیلئے دوسری چیزوں کو قربان کرتا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے جس قدر احسان اپنے بندوں پر ہیں، ان کو سوچ کر اگر انسان اپنے دل کی اصلاح کرنا چاہے تو بہت کچھ کر سکتا ہے۔ہر ایک انسان اگر خدا تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھے تو اس کو اپنے اوپر اس قدر فضل اور احسان نظر آئیں کہ باقی سب لوگوں سے وہ انہیں بڑھ کر پائے گا۔اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کا عجیب معاملہ ہوتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جن لوگوں کا تعلق تھا ان میں سے ہر ایک یہی خیال کرتا تھا کہ سب سے زیادہ آپ کا مجھ سے ہی تعلق ہے۔خدا سے تعلق رکھنے والے بندوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔وہ محبت وہ پیار کرتے ہیں اور احسان اور انعام اپنے اوپر دیکھ کر یہ گمان ہی