خطبات محمود (جلد 4) — Page 309
خطبات محمود جلد ۴ ۳۰۹ سال ۱۹۱۵ء ہے یعنی ایسی ہستی ہے کہ پیدا کرتی ہے اور پھر اس کی تمام ضروریات کو پورا کرتے کرتے درجہ کمال کو پہنچا دیتی ہے۔پھر صرف رب ہی نہیں بلکہ رب العلمین ہے اس کی ذات کی دستگیری کے سوا کوئی بھی چیز زندہ اور قائم نہیں رہ سکتی۔اور ساری کی ساری چیزیں اس کی ربوبیت کے اندر ہیں۔کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے کہ اس کا وجود اپنے آپ سے قائم ہو۔سب چیزیں اللہ کی مدد اور نصرت اور ربوبیت سے قائم ہیں کیونکہ وہی خالق ، وہی رازق، وہی قائم رکھنے والا اور وہی بڑھانے والا ہے۔اور یہ تعلق ایک دو تین چار انسانوں سے ہی نہیں ہے بلکہ سب سے ہے پھر مومنوں سے ہی نہیں بلکہ کافروں سے بھی ہے۔غرضیکہ کوئی پہلو حسن یا احسان کا ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات میں نہ پایا جاتا ہو۔خوبصورت ہے تو ایسا کہ کوئی عیب اور نقص اس میں نہیں ہے اور پھر ساری خوبیاں جمع ہیں۔اور محسن ہے تو ایسا کہ پیدا بھی کرتا ہے پھر بڑھاتا ہے اور بہت بڑھاتا ہے اور یہ ایک دو سے نہیں بلکہ سب سے خواہ کوئی مومن ہو یا کا فرا اپنی ربوبیت کا تعلق رکھتا ہے۔جب یہ بات ہوئی تو پھر اس سے زیادہ حسین اور خوبصورت اور کون ہوسکتا ہے۔خدا تعالیٰ کبھی کسی انسان سے قطع تعلق نہیں کرتا۔بلکہ انسان خود ہی اپنی ذات میں بغاوت کر کے اس کی ربوبیت کو اپنے اوپر بند کر دے تو کر دے خدا تعالی کبھی انسان سے اپنی ربوبیت کو نہیں ہٹا تا۔دیکھو اللہ تعالیٰ کا سورج نکلتا ہے اور سب کو روشنی پہنچاتا ہے۔اگر کوئی کمبخت خود دروازہ بند کر کے اندھیرے میں بیٹھ رہے یا نادانی سے اپنی آنکھوں کو ضائع کر کے سورج کی روشنی سے محروم ہو جائے تو یہ اور بات ہے۔خدا تعالیٰ کی جو چیز ہے وہ سب کو ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے وہ انعامات جو بلا عمل ملتے ہیں اور سب کیلئے یکساں ہیں لیکن انسان اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ان سے محروم ہو جاتا ہے۔سب سے بڑا انعام جو دنیا کو خدا تعالیٰ سے ملال وہ قرآن کریم ہے اور ساری دنیا کیلئے ہے۔اگر کوئی انسان آپ ہلاک اور تباہ ہونا چا ہے اور اس سے آنکھیں بند کر لے تو وہ اور بات ہے ورنہ قرآن سب جہان کیلئے ہے۔اس میں مصر، عرب ، افریقہ، امریکہ، یورپ وغیرہ کسی جگہ کی خصوصیت نہیں ہے۔جہاں جہاں قرآن پہنچے سب کیلئے ہدایت ہے اور جو اس کو قبول کرے اسی کو کامیابی حاصل ہو سکتی ہے اور جو قبول نہ کرے اور ہلاک ہو جائے یہ اس کی اپنی غلطی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے انعاموں میں کمی نہیں کی۔اگر بندہ اپنی غلطیوں اور نادانیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے انعامات کے دروازے