خطبات محمود (جلد 4) — Page 306
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء بتا دیئے۔قاضی نے روپیہ نکال کر اس کے حوالے کیا اور کہا کہ پہلے تم نے کیوں نہ مجھے یہ باتیں بتائیں تا کہ میں اسی وقت تمہیں روپیہ دے دیتا۔تو اس طرح اس کا روپیہ وصول ہوا کہ وہ بادشاہ کا دوست تصور کیا گیا۔اب رعایا کی مجال نہیں تھی کہ اس کی مخالفت کرتی۔پس جو شخص خدا تعالیٰ سے دوستی پیدا کر لے پھر خدا کی مخلوق کی طاقت نہیں کہ اس کو دکھ دے سکے۔پس اس بات کو خوب یاد رکھو کہ جب بادشاہ سے تعلق ہو جائے تو پھر رعایا کی مجال نہیں کہ اس کا مقابلہ کر سکے۔خدا تعالیٰ سے بڑا بادشاہ کون ہوگا اور بادشاہوں کی اس کے سامنے ہستی ہی کیا ہے وہ ایک سیکنڈ میں ان کی جان نکال لے تو وہ کچھ بھی نہ کر سکیں۔ان کے پاس بڑے بڑے لائق اور قابل ڈاکٹر بیٹھے کے بیٹھے رہ جاتے ہیں کہ موت کا فرشتہ اپنا کام کر جاتا ہے۔ان بادشاہوں کے پاس جو کچھ ہے خدا تعالیٰ ہی کی عطا اور بخشش ہے۔جب ان کے دوستوں اور تعلق رکھنے والوں کو کوئی دکھ نہیں دے سکتا تو خالق سے تعلق رکھنے والوں کو مخلوق کے دکھ دینے کی کیا مجال ہے۔جب خالق مہربان ہو جائے تو مخلوق خود بخو دگر دن جھکا دیتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم ہمارا تقویٰ اختیار کرو گے تو ہم تمہارے لئے آسانیوں کے دروازے کھول دیں گے اور کوئی مشکل ، کوئی مصیبت اور کوئی دکھ تمہیں نہ پہنچ سکے گا۔کیونکہ خدا آپ تمہاری مدد کرے گا اور تمہاری گذشتہ بدیوں کو ڈھانپ دے گا اور گناہوں کو بخش دے گا اور یہ کیا وہ تو تم پر بڑے بڑے فضل اور انعام کرے گا کیونکہ وہ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ ہے۔پس تم لوگ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔اللہ تعالیٰ تمہیں متقی بنائے اور تقویٰ کے راستہ پر چلنے کی توفیق دے۔اور باریک در باریک راہیں جو اس کی رضا ورغبت حاصل کرنے کی ہیں وہ بتائے اور اپنے پاک اور نیک بندوں کی راہوں پر چلائے اور اپنے فضل کے دروازے تم پر کھولے اور ہر قسم کی خفیہ در خفیہ اور بار یک در بار یک شرارتوں سے پاک کر کے اپنے راستباز بندوں میں شامل کر دے۔آمین ثم آمین۔الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۱۵ء) ل الانفال: ٣٠ بخاری کتاب التوحید باب قول الله وجوه يومئذ ناضرة الى ربها ناظرة۔بخاری کتاب بدء الخلق باب ما جاء صفة الجنة