خطبات محمود (جلد 4) — Page 270
خطبات محمود جلد ۴ ۲۷۰ سال ۱۹۱۵ء بہت سے نادان لوگ مشکلات اور مصائب کے وقت خود کشی کر لیتے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کو خدا پر ایمان نہیں ہوتا اور وہ نہیں جانتے کہ کوئی ایسی ہستی بھی ہے جو مشکلات سے بچا سکے اسی لئے اسلام میں خود کشی کو حرام فرما دیا ہے۔پس اس وقت جب تمام دنیا کی اشیاء انسان کے مخالف ہو جاتی ہیں ایسے وقت میں خدا نے ہی ہے جو انسانی دل کو ڈھارس دیتا ہے۔جب دنیا کے لوگ حق اور صدق کو چھوڑ کر ناراستی اختیار کر لیتے ہیں اور حق کے مخالف ہو جاتے ہیں تو خدا پر ایمان لانے والا جانتا ہے کہ بچے کو کوئی ڈر نہیں۔تو جب مومن یہ دیکھتا ہے تو اس کے دل سے بے اختیار الحمد لاتی ہے۔الحمد لله رب العلمين لاے کہ مولیٰ یہ سب تیرا فضل ہے کہ جب دنیا میرے مخالف ہو گئی تو تیری ہستی پر میری نظر پڑی تو ہی میرا مددگار ہوا۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ اس نے اپنی ہستی کو ظاہر کر کے اپنے بندوں کو مصائب سے رہائی دی۔میں نے بولنا نہ تھا مجھے ریزش کی وجہ سے کھانسی سے بہت تکلیف ہے چند دن ہوئے میں نے رویا میں دیکھا کہ میں نے مولوی سید سرور شاہ صاحب کو کہلا بھیجا کہ آپ جمعہ پڑھاویں لیکن پھر جلدی سے ایک لڑکے کے ہاتھ کہلا بھیجا ہے کہ میں خود ہی پڑھاؤں گا۔آج میرا ارادہ بولنے کا نہ تھا۔میں نے ایک اشتہار کے چند فقرات سنے ہیں۔بعض آدمیوں نے یہ مشہور کیا تھا کہ میں نے گورنمنٹ کے سامنے ایک درخواست پیش کی ہے کہ مجھے اگر خلیفہ المسلمین تسلیم کرایا جاوے تو میں گورنمنٹ کی بہت مدد کر سکتا ہوں۔اس پر میں نے شائع کیا تھا کہ یہ جھوٹ اور خلاف واقعہ امر ہے۔میں نے گورنمنٹ سے کوئی ایسی درخواست نہیں کی اور میں نے اس کی تردید کر دی تھی لیکن وہ انسان جس کا منشاء صداقت کی مخالفت اور اس کا انکار ہوا سے سچی باتوں میں بھی قصور نظر آتا ہے۔اس نے یہ کہ دیا۔خطاب طلب کرنے کے لئے میاں نے عرضی دینے سے انکار کیا ہے یہ تو نہیں لکھا کہ میں نے خلیفہ تسلیم کئے جانے کیلئے کوئی عرضی نہیں دی۔اگر اس کا منشاء مجھے دکھ پہنچانے کا تھا اور میرے دل میں درد پیدا کرنے کا بھتا تو اُسے مبارک ہو کہ ایسا ہو گیا۔اب اللہ تعالیٰ میرا اور اس کا فیصلہ کرے گا اب سوائے اس کے اور امر نہیں رہا۔میں قسمیں کھاتا ہوں اور اسے جھوٹ قرار دیا جاتا ہے اور اسے فریب اور دھوکا بازی پر محمول کیا جاتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ میں نے گورنمنٹ سے کوئی خطاب خلیفہ وغیرہ