خطبات محمود (جلد 4) — Page 271
خطبات محمود جلد ۴ ۲۷۱ سال ۱۹۱۵ء کالے کر کیا کرنا ہے۔مگر یہ لوگ اسے یہ کہ کر کہ گورنمنٹ کو عرضی دینے سے انکار نہیں کیا حق و باطل کو ملتبس کر دیتے ہیں۔خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں اور لعنت اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کہتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میں نے ہرگز گورنمنٹ کو اپنے خلیفہ تسلیم کرائے جانے کی کوئی عرضی نہیں دی مگر یہ اسے تقیہ یا توریہ بتاتے ہیں حالانکہ میں نے لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبین لکھ کر بتادیا تھا۔اگر میں نے ایسا کیا ہو تو مجھ پر لعنت ہو اور اگر میں نے ایسا نہیں کیا اور یہ مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے تو مجھ پر جھوٹا الزام لگانے والے پر لعنت پڑے گی۔تو اب میرے مولیٰ سے یہ میری درخواست ہے کہ وہ اس امر کا فیصلہ کرے اور وہ صدق و کذب میں فیصلہ کر کے حق کو باطل سے ممتاز کرے اور جو اس امر میں جھوٹا ہے اس کا جھوٹ ظاہر کر دے۔میں نے یہ کہا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ صاحب کو خط لکھا اور پھر اس کے بعد میری کوئی تحریر اس کے خلاف نہیں نکلی۔اگر کسی تقریر کو ضبط کرنے والے نے بجائے خواجہ کے حضرت صاحب لکھ دیا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔میں نے یہ نہیں کہا کہ مولوی محمد علی صاحب نے حضرت صاحب کو ایسا خط لکھا کہ میری تحریر ہی ہے اور میں نے یہی کہا ہے کہ مولوی صاحب نے خواجہ کمال الدین صاحب کو اس طرح کا خط لکھا تھا۔میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس نے نب کر یم مالی لی پی پی کو بھیجا۔اس خدا کی قسم جس کا فرستادہ حضرت مسیح موعود تھا۔اس خدا کی قسم قرآن جس کا کلام ہے۔حضرت مسیح موعود نے یہ فرمایا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب نے ایک اس قسم کا خط لکھا ہے کہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ کس کو لکھا۔پھر حضرت صاحب نے فرمایا کہ:۔ایسا لکھنے والا احمق ہے وہ بیوقوف ہے وہ نہیں دیکھتا کہ مہمان تو یہاں ( ان دنوں حضرت مسیح موعودلاہور میں تشریف فرما تھے ) آرہے ہیں۔قادیان میں اب جا تا کون ہے اُسے چاہئے تھا کہ وہ لاہور اور مت ادیان کا خرچ جمع کر کے دیکھتا کہ کتنا ہے۔پھر فرمایا کہ خدا نے مجھے بتلایا ہے کہ لنگر جب تک تمہارے ہاتھ میں ہے چلتا رہے گا۔اگر میں اسے ان کے ہاتھ میں دے دوں تو یہ چند دنوں میں ہی بند ہو جاوے۔میں کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔یہ قسم کھالیں کہ ہم نے کبھی ایسا نہیں لکھا یا یہ کہ حضرت مسیح موعود نے یونہی کہہ دیا تھا ہم نے کوئی نہیں لکھا۔پس فیصلہ کا آسان طریق یہی ہے۔ہمارا