خطبات محمود (جلد 4) — Page 269
خطبات محمود جلد ۴ ۲۶۹ (۵۷) حق و باطل میں امتیاز کیلئے خاص دعائیں کرو (فرموده ۱۲۔فروری ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء حضور نے تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔انسان کی زندگی اور اس کی زیست جس طرح مختلف جسمانی اشیاء پر منحصر ہے ایسے ہی ہستی باری تعالیٰ بھی انسان کی زندگی کے قیام کا ذریعہ ہے۔میری مراد اس سے یہ ہے کہ :۔ہر ایک انسان پر دنیا میں ضرور مشکلات آتی ہیں اور اسے طرح طرح کی دقتیں پیش آتی ہیں اور اس کے کاموں میں رکاوٹیں پیش آتی ہیں ایسے وقت میں دوسری دنیاوی چیزیں جو انسانی زندگی کے قیام کا ذریعہ ہیں مثلاً ہوا، پانی کھانا ،لباس، سورج ، رات، دن یہ ایک دہریہ کو بھی حاصل ہیں۔اور ان سے ایک خدا کا منکر بھی ایسا ہی فائدہ حاصل کرتا ہے جیسے ایک خدا کا ماننے والا اور اس کی صفات پر ایمان رکھنے والا۔تو جب انسان پر مشکلات آئیں اور اسے تکلیفوں کا سامنا ہوتا ہے تو خدا کا نہ مانے والا اس کی قدرتوں ، اس کی نصرت ، تائید اور اعانت پر یقین نہ رکھنے والا جب دنیا وی سامانوں کو اپنے ہاتھ سے نکلتے دیکھتا ہے اور جب دنیا کی اشیاء اس کے مخالف ہو جاتی ہیں تو اس کا دل بیٹھ جاتا ہے، اس کی ہمت پست ہو جاتی ہے، اس کا حوصلہ ٹوٹ جاتا اور وہ ہار جاتا ہے لیکن ایسے وقت میں ایک خدا کا ماننے والا جو جانتا ہے کہ خدا اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے، خدا قادر ہے جب دنیاوی سامان مخالف ہو جاویں تو اس کا دل نہیں بیٹھتا، وہ گھبراتا نہیں۔کیوں؟ اس کا خدا پر ایمان ہے۔پس خدا کی ہستی پر ایمان انسان کو بہت سی مشکلات سے بچالیتا ہے۔