خطبات محمود (جلد 4) — Page 256
خطبات محمود جلد ۴ ۲۵۶ سال ۱۹۱۴ء ایک وقت کیلئے تو وہ ڈال سکتا ہے۔مثلاً ایک شخص کسی کو گالیاں دے رہا ہو لیکن اگر اس کو اپنے افسر کے سامنے جانا پڑ جائے تو وہ اپنی زبان کو روک لے گا اور اپنے نفس پر دباؤ ڈالے گا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب جو تم خدا کے حکم سے ایک جگہ جمع ہوئے ہو تو ان باتوں کو اس موقع پر قطعا چھوڑ دو اور ان کو چھوڑ کر جو تم بھلائی کماؤ گے اس کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔تم لوگ جو ان جلسہ کے پانچ ایام میں ان باتوں کو چھوڑ دو گے اور اپنے نفس پر ظلم برداشت کرو گے اور اپنے نفس کو مارو گے تو یہ جو تمہاری بھلائی ہوگی خدا تعالیٰ اسے بھلائے گا نہیں بلکہ اس کے عوض تم سے ساری عمر کے لئے یہ باتیں چھڑا دے گا۔ایک کسان کھیت میں بیج ڈال کر اس کو خدا تعالیٰ کے حوالہ کر آتا ہے۔تم بھی اس پیج کی طرح اپنے دلوں میں اس بھلائی ہے کو ڈال کر خدا تعالیٰ کے حوالہ کر دو۔وہ خودا سے بڑھائے گا اور اس کی حفاظت کرے گا۔بیج ضرور ہونا چاہیئے اس کو بڑھانا خدا کا کام ہے اور وہ ضرور بڑھاتا ہے۔پھر ان دنوں میں جو کچھ کرنا چاہیئے وہ بھی خدا تعالیٰ نے بتا دیا ہے۔فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَا سِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِكُمْ أَبَانَكُمْ او اشد ذكراه یعنی جب تم مناسک حج کو پورا کر لو تو ساتھ ہی اس طرح خدا کو یاد کرنا شروع کر دو جس طرح تم اپنے ماں باپ کو یاد کرتے تھے اور خدا کا ذکر اس سے بھی بڑھ کر کرو یہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ماں باپ کا جس طرح ذکر کرتے تھے اسی طرح خدا کا کرو۔ماں باپ کا تعلق تو بہت محدود ہوتا ہے لیکن جو ہمیں اس خدا تعالیٰ کے قائم کردہ جلسہ سے تعلق ہے وہ بہت بڑھ کر ہے اس لئے ہمیں اس سے یہ نصیحت مل گئی کہ جیسا کہ حج میں رَفتَ فُسُوق اور جدال منع ہیں ایسا ہی اس جلسہ میں بھی منع ہیں اور جیسا حج میں مناسک حج کے بعد ذکر خدا کا حکم ہے اسی طرح ہماری جماعت جب لیکچر سننے سے فارغ ہو جائے تو فاذْكُرُو اللہ تم خدا کے ذکر میں لگ جاؤ۔اس حکم میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کہ آنحضرت مصلی یا الی یوم کے وقت میں جب حج کر چکتے تو اپنے آباؤ اجداد کا نام لے کر ان کا ذکر کرتے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا کا ذکر کرو اس سے بڑھ کر جیسا کہ تم اپنے آباء کا ذکر کرتے ہو۔اس کے یہ معنی ہی نہیں ہیں کہ جس طرح تم اپنے ماں باپ کی تعریف کرتے ہو اسی کے طرح یا اس سے زیادہ خدا کی کرو۔بلکہ یہ بھی کہ جس طرح ایک چھوٹا بچہ ماں باپ سے جب بچھڑ جاتا ہے تو روتا اور چلاتا ہے اور اس وقت تک آرام نہیں لیتا جب تک کہ اپنے ماں باپ کو نہ پالے بلکہ اس سے بھی