خطبات محمود (جلد 4) — Page 257
خطبات محمود جلد ۴ ۲۵۷ سال ۱۹۱۴ء زیادہ خدا کے حضور انسان کو تڑپنا اور بلکنا چاہیئے۔جن لوگوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ جتنا اپنے آباء کا ذکر کرتے ہو اس سے بڑھ کر خدا کا ذکر کرو وہ تو گزر گئے (اہل عرب حج کے بعد اپنے آباء واجداد کے کارنامے فخریہ ذکر کرتے تھے ) مگر ہمارے لئے یہ موقع ہے تم یقینا سمجھو کہ جو لوگ ان احکام کو مانیں گے اور ان پر عمل کریں گے وہ اپنے اندر نمایاں تغیر اور تبدیلی دیکھیں گے اور جب یہاں سے واپس جائیں گے تو بہت سی ہے ان کمزوریوں سے جن کو وہ دور کرنا چاہتے تھے اور وہ دور نہیں ہوتی تھیں آسانی سے دور کر دیں گے۔خدا تمہیں اس کی توفیق دے۔ایک اور بات میں بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ سردی کے دن ہیں ، سردی سے بچنا۔بغیر کافی کپڑوں کے باہر نہیں نکلنا چاہیئے۔ہم جو اس قدر کوشش کرتے ہیں کہ ہماری جماعت بڑھے تو جو اس جماعت میں داخل ہو گئے ہیں کیا ان کی ہمیں قدر نہیں۔بہت بڑی قدر ہے۔پس تم اپنی جانوں کی حفاظت کرو اور سردی سے بچنے کی بہت کوشش کرو۔بعض لوگ اپنے ڈیروں پر ہی نماز پڑھ لیتے ہیں۔یہ دن تو بہت زیادہ عبادت ہے کرنے کے دن ہیں اس لئے نماز با جماعت مسجد میں پڑھنی چاہیئے۔مومن کبھی ست نہیں ہوتا تم نے تو بڑے کام کرنے ہیں۔تمہارے آگے ساری دنیا ہے جس کو تم نے فتح کرنا ہے۔جو لوگ دار العلوم میں رہتے ہیں وہ مسجد نور میں اور جو قادیان میں رہتے ہیں وہ چھوٹی اور بڑی مسجد میں نمازیں پڑھیں۔وہ لوگ جو قادیان کے رہنے والے ہیں ان کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ پانچ باتیں جن لوگوں میں پائی جاتی ہوں وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتے اور ان پانچوں میں سے ایک مہمان کی قدر کرنا ہے۔قادیان کے رہنے والے کہتے ہیں کہ ہماری نسبت حضرت مسیح موعود کے الہامات ہیں اور آپ نے ہماری نسبت بہت عمدہ الفاظ بیان فرمائے ہیں۔میں ان باتوں کو مانتا ہوں مگر تم اپنے اعمال سے بھی ثابت کر دکھاؤ کہ واقعی تم ان باتوں کے مستحق ہو۔پس جو مہمان تمہارے پاس آئے ہیں ان کی خاطر تواضع میں لگ جاؤ۔کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ میرے مہمان نہیں ہیں اس لئے مجھے خدمت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اس کو یا درکھنا چاہئیے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اور تم اس کے بندے ہو تو کیا یہ بندے کا فرض نہیں ہے کہ وہ اپنے آقا کے مہمان کی خبر گیری کرے ، ضرور ہے۔پس یہ مہمان خدا کے گھر اور خدا ہی کی آواز پر آئے ہیں کیونکہ مامور من اللہ کی آواز خدا ہی کی آواز ہوتی ہے۔تم لوگ ان کی خبر گیری کرو۔اگر تمہیں کسی سے تکلیف بھی پہنچ جائے تو اس کو برداشت کرو۔اور کسی کی ہتک کرنے کا خیال بھی دل میں