خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 255

خطبات محمود جلد ۴ ۲۵۵ سال ۱۹۱۴ء فُسُوق اور جدال کو حج کے ایام میں نہیں چھوڑتا، اسی طرح اس جلسہ پر آنے والا وہ شخص بھی ثواب اور فائدہ سے محروم رہتا ہے جو ان باتوں کو نہیں چھوڑتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللهُ س تمہیں ان باتوں کے چھوڑنے میں وقتیں پیش آئیں گی۔مشکلات ہوں گی۔مثلاً ایک شخص کو کسی نے گالی دے دی اگر وہ یہ کہے کہ میری غیرت نہیں برداشت کرتی، میں ضرور اس سے بدلہ لوں گا۔ایسا آدمی اگر صبر سے کام لے تو گو اس کیلئے کسی قدر مشکل ہوگالیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اس طرح خدا کیلئے کرو گے تو کیا یہ ضائع کیا جائے گا، ہرگزنہیں تم جوبھی بھلائی کا کام کرو ہم اس کو خوب جانتے ہیں۔تم اپنے افسروں اور حاکموں کو خوش کرنے کیلئے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھاتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ تمہاری ان خدمات کو دیکھیں لیکن جب تم کو یہ معلوم ہو کہ ہم جو کچھ خدا کیلئے تکلیف برداشت کریں گے اس کے دیکھنے اور جاننے والا خدا موجود ہے تو کیا تم اس کیلئے تکلیف برداشت نہیں کر سکتے۔وَتَزَودُوا س جب دنیا میں لوگ سفر کیلئے نکلتے ہیں تو کیسی تکالیف برداشت کرتے ہیں اور سامان سفر کے مہیا کرنے کے لئے انسان کس طرح اسباب اور دیگر اشیاء مہیا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جو تم ایک جگہ جمع ہوئے ہو تو یہ تمہارے ایک آخرت کے سفر کی تیاری ہے۔تمہیں چاہیئے کہ جب تم چھوٹے چھوٹے سفروں کیلئے سامان مہیا کرتے ہو تو اس کیلئے بھی کرو۔اور سب سے اچھا سامان تو یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور اگر تمہیں تکالیف اور مشکلات برداشت کرنی پڑیں تو کر لو۔دنیا میں انسان اگر کسی دکھ اور تکلیف کے برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں ایسا کروں گا تو مجھے نقصان اٹھانا پڑے گا۔مثلاً کسی کو کسی نے گالی دی تو وہ یہ سمجھے گا کہ اگر میں نے اس کا جواب نہ دیا اور چپ رہا تو میری ہتک اور ذلت ہوگی۔تو انسان نقصان کے خطرہ کی وجہ سے تکلیف کے برداشت کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاتَّقُونِ يَأُولِي الْأَلْبَابِ سے ہمارے مقابلہ میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اس لئے اے دانا ؤا تم مجھ سے ہی ڈرو۔اگر تم مجھ سے ڈرو گے تو کون ہے جو تمہیں نقصان پہنچا سکے۔یہ خوب یا درکھو کہ رفت، فُسُوق اور جدال تو ہمیشہ ہی منع ہے مگر اس اجتماع کے موقع پر یہ اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ انسان ہمیشہ کیلئے اپنے آپ پر دباؤ نہیں ڈال سکتا۔مگر