خطبات محمود (جلد 3) — Page 630
خطبات محمود ۶۳۰ (۱۳۵ جلد سوم واقفین زندگی کا مقام (فرمودہ ۷ جون ۱۹۴۷ء) ۷ جون ۱۹۴۷ء بعد نماز مغرب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جناب مرزا عبدالحق صاحب وکیل گورداسپور کی لڑکی عزیزہ بیگم صاحبہ کا نکاح محترم حیدر علی صاحب ابن حکیم رحمت علی صاحب آف دہلی کے ساتھ مبلغ دو ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : نکاحوں کے متعلق میرا عام طریق یہی ہے کہ میں واقفین زندگی کے نکاح ہی پڑھا کرتا ہوں یا پھر ایسے لوگوں کے نکاح بھی پڑھ دیا کرتا ہوں جن کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات ہوں اور وہ تعلقات بھی ایسے ہوں کہ ان کی وجہ سے وہ نکاح پڑھے جانے کے حقدار قرار پاتے ہوں لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں واقفین زندگی کو دوسروں پر ترجیح دیتا ہوں یا واقفین زندگی کو تو معزز سمجھتا ہوں اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہوں بلکہ اس لئے کہ چونکہ اب جماعت خدا تعالٰی کے فضل سے ترقی کر چکی ہے اور کاروبار وسیع ہو چکا ہے اس لئے ایسے کاموں کے لئے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔پس ضروری تھا کہ ایک حد بندی قائم کر دی جاتی۔ہاں جب کوئی ایسا نکاح آجاتا ہے کہ وہ مجھ سے پڑھے جانے کا مستحق ہو تو اس وقت بعض دوسرے نکاح بھی شامل کر لئے جاتے ہیں۔آج جس نکاح کے اعلان کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں وہ لڑکا تو واقف زندگی نہیں لیکن لڑکی کے والد یعنی مرزا عبد الحق صاحب بی اے ایل ایل بی واقف زندگی ہیں اور گو ابھی تک ہم نے ان