خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 629 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 629

خطبات محمود ۶۲۹ جلد سوم ان ترقیات کو نہیں پا سکتے جو ہمارے مد نظر ہیں۔ہم میں سے بڑے سے بڑا عالم، بڑے سے بڑا ڈاکٹر، بڑے سے بڑا وکیل، بڑے سے بڑا تاجر اور بڑے سے بڑا صناع جب تک اپنے اندر یہ حالت نہیں پاتا کہ جب وہ سنے کہ فلاں نے اپنی زندگی دین کے لئے وقف کی ہے تو وہ خوشی کے ساتھ اچھل پڑے اور اسے اپنے سے زیادہ معزز سمجھے اس وقت تک ہم ایک ایسا خواب دیکھ رہے ہوں گے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا اور ہمارا یہ کہنا کہ ہماری جماعت تمام دنیا کو اسلام کے لئے فتح کرلے گی صرف منہ کی بات ہوگی۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ معمولی مسئلہ نہیں کہ اس کی پرواہ ہی نہ کرو بلکہ تمہیں چاہئے کہ اسے شیخ کی طرح اپنے دلوں میں گاڑ لو یہاں تک کہ جماعت کے ہر فرد کو یہ پختہ یقین ہو جائے بلکہ قیامت تک یہ یقین رہے کہ دین کی خدمت کرنے والا ہی سب سے بڑا معزز ہے۔له الفضل ۲۸ اپریل ۱۹۳۷ء صفحه ۱ الفضل ۸ نومبر ۱۹۷۱ صفحه ۳۲) Clemaent Recead Attlee (1883-1967) ✓ Prime Minator of the First Majority Labour Goverment (1945-51) محترم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ نے بتایا کہ وہ ان دنوں امام مسجد لندن تھے۔مزائیلے پرائم منسٹر کی بڑی بہن تھیں یہ مشرقی افریقہ میں مشنری رہی تھیں۔مگر بشیر احمد آرچرڈ ایک میٹنگ میں اس سے ملے اور اس کو مسجد آنے کی دعوت دی۔یہ مشرقی افریقہ میں ہمارے مبلغوں سے مل چکی تھی اور احمدیت سے واقفیت رکھتی تھی۔بشیر احمد آرچرڈ کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے کہا: "I have spent my life in East Africa but The light I see in your face I have not seen hefore"