خطبات محمود (جلد 3) — Page 631
خطبات محمود کو وقف کے سلسلہ میں مرکز میں نہیں بلوایا اور انہیں اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ابھی اپنا کام بھی کریں اور سلسلہ کے بعض ضروری کاموں میں بھی حصہ لیں لیکن وہ اپنا کافی وقت سلسلہ کے کاموں کے لئے دیتے ہیں اور ہر اتوار کو قادیان آجاتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کے تعلقات میرے ساتھ پرانے ہیں اور وہ تعلقات ایسے ہیں کہ وہ میرے لئے بمنزلہ عزیز کے ہیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ ان کی لڑکی کا نکاح پڑھا دوں۔اس میں شبہ نہیں کہ ہماری جماعت کے سے افراد میں خدا تعالیٰ کے فضل سے قربانی کی روح پائی جاتی ہے۔الا ماشاء اللہ اور وہ سب ہی اچھے ہیں۔لیکن اس میں شبہ نہیں کہ ان اچھوں میں بھی کچھ زیادہ اچھے ہوتے ہیں اور کچھ کم اچھے ہوتے ہیں رسول کریم ﷺ کے سارے صحابہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے رضِی اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ نے فرمایا ہے لیکن ان میں بھی مدارج تھے اور ان میں سے بعض صحابہ اپنے ایثار اور قربانی اور اخلاص کی وجہ سے بعض دوسروں پر فوقیت رکھتے تھے۔یہی حال ہماری جماعت کا بھی ہے اس لئے دنیوی کاموں میں ان کی دینی قربانیوں کی وجہ سے بعض کو بعض پر ترجیح دینی ہی پڑتی ہے اور جب کام کی زیادتی ہو تو حد بندی لگانی ہی پڑتی ہے۔ہماری جماعت کے اندر ایک مرض ایسا ہے جو صحابہ میں نہیں تھا اور وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کا ہر شخص ایک نئی راہ کی تلاش میں رہتا ہے جس کے ذریعہ وہ خلیفہ وقت سے کام لے سکے اور ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بعض کام خلیفہ وقت ہی کرے۔مثلاً کسی نے مکان بنانا ہو تو اس نے مجھ سے آکر کہہ دیا چلئے بنیادی اینٹ رکھ دیجئے میں نے بھی سمجھا کہ اس کی دلجوئی ہو جائے گی اس لئے انکار نہ کیا مگر جب دوسروں نے دیکھا کہ خلیفہ وقت نے فلاں شخص کے مکان کی بنیادی اینٹ رکھی ہے تو جس کسی نے مکان بنوانا چاہا اس نے کہا میرے مکان کی بنیادی اینٹ بھی رکھ دیجئے اس طرح ایک خلیفہ تو مکان کی اینٹیں رکھنے کے لئے چاہئے۔اسی طرح قادیان میں شادیوں اور بیاہوں پر ہوتا رہا ہے اور جس کسی کے ہاں شادی ہوتی یا کسی نے اپنے دوستوں یا عزیزوں کو دعوت چائے یا دعوت طعام دی تو پہلے ایک نے پھر دوسرے نے اور پھر دیکھا دیکھی ہر ایک نے مجھے بلانا شروع کر دیا۔اب چونکہ یہ تو نہیں ہو سکتا تھا کہ میں ایک کی بات مانتا اور اس کی دلجوئی کرتا اور دوسرے کی بات کو رد کر دیتا کیونکہ جس کی بات مانی گئی وہ تو خوش ہو گیا اور جس کی نہ مانی گئی اس کے دل کو ٹھیس لگی اس لئے میں نے اس رواج کو بند کر دیا۔پچھلے دنوں ایک دوست ٹائیفائڈ سے بیمار ہوئے اور ایک دن انہوں نے پانی