خطبات محمود (جلد 3) — Page 609
خطبات محمود ۶۰۹ ۱۳۱ جلد سوم غموں کا ایک دن اور چار شادی (فرموده ۳۰ مارچ ۱۹۴۵ء) ۳۰ مارچ ۱۹۴۵ء خطبہ جمعہ سے قبل مسجد نور میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اپنے دو صاحبزادگان اور دو صاحبزادیوں کے نکاحوں کا اعلان فرمایا۔صاحبزادہ مرزا خلیل احمد کا نکاح صاحبزادی امتہ المجید صاحبہ بنت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ساتھ مبلغ ایک ہزار روپیہ صر پر اور صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب کا نکاح سیدہ تنویر الاسلام صاحبہ بنت مکرم سید عبد السلام صاحب سیالکوٹ کے ساتھ ایک ہزار روپیہ مہر پر نیز صاحبزادی امتہ الحکیم صاحبہ کا نکاح سید داؤد مظفر صاحب ابن سید محمود اللہ شاہ صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم السلام ہائی سکول سے ایک ہزار روپیہ مہر پر اور صاحبزادی سیدہ امتہ الباسط صاحبہ کا نکاح سید داؤد احمد صاحب ابن حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے ساتھ ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں جمعہ کے خطبہ سے پہلے بعض نکاحوں کا اعلان کرنا چاہتا ہوں۔دنیا میں سب سے قیمتی وجو د رسول کریم ہیں۔زمانہ کے گزرنے اور حالات کے بدل جانے کی وجہ سے چیزوں کی وہ اہمیت باقی نہیں رہتی جو اہمیت کہ ان حالات کی موجودگی اور ان کے علم کے ساتھ ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺ جب مبعوث ہوئے اس وقت دنیا کی جو حالت تھی اس کا اندازہ آج لوگ نہیں کر سکتے۔اگر رسول کریم ﷺ کو خدا تعالی مبعوث نہ فرما تا تو آج دنیا میں دین کے معنے یہ سمجھے جاتے کہ بعض انسانوں کی پوجا کرلی، قبروں کی پوجا کر لی اور بتوں کی پوجا کر لی۔قانون،