خطبات محمود (جلد 3) — Page 610
خطبات محمود 41 جلد سوم اخلاق کو دنیا میں کوئی قیمت حاصل نہ ہوتی، مذہب کوئی اجتماعی جدوجہد کی چیز نہ ہوتا، خدا کے ساتھ بنی نوع انسان کا تعلق پیدا ہونا بالکل ناممکن ہو تا بلکہ ایسے تعلق کو بے دینی اور لامذہبی قرار دیا جاتا، بنی نوع انسان کے مختلف حصوں کے حقوق کی کوئی حفاظت نہ ہوتی، عورتیں بدستور غلامی کی زندگی بسر کر رہی ہوتیں، بت بدستور پوجے جارہے ہوتے، خدا تعالٰی بدستور متروک ہو تا، غلامی بدستور دنیا میں قائم ہوتی، لین دین کے معاملات میں بدستور ظلم اور تعدی کی حکمرانی ہوتی غرض دنیا آج وہ کچھ نہ ہوتی جو آج ہے۔بعض لوگ نادانی کی وجہ سے موجودہ زمانہ کی ترقی کو دیکھ کر یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ چیز بہر حال ہو جاتی ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ جب ایک چیز موجود ہو اس کی نقل کر کے ترقی کرنا اور چیز ہے اور اپنے طور پر ترقی حاصل کرنا بالکل اور چیز۔آج سارے مذاہب میں توحید پائی جاتی ہے مگریہ توحید ممنون ہے اسلامی توحید کی اگر اسلام توحید کا خیال دنیا میں پیدا نہ کرتا تو پھر دنیا میں توحید قائم ہی نہ ہو سکتی۔اگر رسول کریم ﷺ کے بغیر یہ چیز قائم ہو سکتی تھی تو پھر وجہ کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ سے پہلے قائم نہ ہوئی۔اگر اسلام عورتوں کے حقوق اس طرح قائم نہ کرتا تو جو حقوق آج ان کو دیئے جارہے ہیں یہ نہ دیئے جاتے کیونکہ اگر انسان نے یہ حقوق اپنے ذہن میں تجویز کر کے دینے ہوتے تو پہلے کیوں نہ دیئے۔اگر رسول کریم اس کے ذریعہ اخلاق قائم نہ ہوتے تو آج اخلاق پر زور نہ دیا جاتا کیونکہ اگر آپ کی رہبری کے بغیر بھی دنیا اس طرف جاسکتی تھی تو دنیا میں آپ سے پہلے کیوں اخلاق قائم کرنے کی طرف توجہ پیدا نہ ہوئی۔پس موجودہ اخلاق اور موجودہ توحید خواہ وہ عیسائی قوم میں ہو یا یہودی قوم میں یا دنیا کی کسی اور قوم میں ہو وہ ممنون ہے رسول کریم الله کے احسان اور آپ کی رہنمائی کی۔مگر اب چونکہ وہ چیز موجود ہے اسلئے ہر شخص یہ خیال کرتا ہے کہ شاید اسکے بغیر بھی ہم کو ترقی حاصل ہو جاتی اور اس چیز کی عظمت اس زمانہ کے حالات دیکھے بغیر قائم نہیں ہو سکتی مگر رسول کریم اے کا زمانہ جن لوگوں نے دیکھا ان کیلئے آپ کا وجود ایسا قیمتی تھا کہ وہ آپ کے بغیر دنیا میں زندہ رہنا بیچ سمجھتے تھے۔دنیا میں جو اقوال اور جو باتیں لوگوں نے کمی ہیں ان میں سے راست بازی کے اعلیٰ معیار پر پہنچی ہوئی وہ بات ہے جو حسان نے رسول کریم ﷺ کے متعلق کمی كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ حَاذِره