خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 549

خطبات محمود ۵۴۹ جلد سوم طاقت شروع شروع میں کمزور نظر آتی ہے کیونکہ ان کے افراد ایک ایک، دو دو، چار چار کر کے دور دور پھیلے ہوتے ہیں۔اگر شروع میں وہ سب اکٹھے ہوں تو کافی طاقتور نظر آئیں مثلا ہماری جماعت کئی لاکھ ہے اور اگر یہ ساری کی ساری گورداسپور کے علاقہ میں جمع کر دی جائے تو یہاں ہماری نمایاں طور پر برتری اور طاقت نظر آئے مگر اس وقت چونکہ وہ ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اس لئے ہم کسی جگہ بھی ایسے محفوظ اور طاقتور نظر نہیں آتے جتنے اگر ساری جماعت ایک جگہ ہوتی تو نظر آسکتے۔بعض دفعہ جب الہی جماعتوں کو ایک جگہ جمع کرنا مطلوب ہو تو اس کے لئے ہجرت کرائی جاتی ہے۔اللہ تعالی ایسی جماعت کو بھی پھیلا تا تو چاروں طرف ہے مگر پھر کسی مصلحت کے ماتحت انہیں ایک جگہ جمع ہونے کا حکم دے دیتا ہے جیسے رسول کریم ا کے زمانہ میں ہجرت کا حکم ہوا اور تمام یمنی ، نجدی حجازی، ایرانی مسلمانوں کو مدینہ میں جمع ہونے کا حکم دے دیا گیا اور اس طرح وہ بات بھی پوری ہو گئی کہ ایمان چاروں طرف پہنچ گیا اور پھر مسلمانوں کی طاقت بھی ایک جگہ جمع ہو گئی۔جب ایک نجد کا مسلمان مدینہ گیا تو پیچھے اس کے رشتہ دار موجود تھے، ایرانی مسلمان تو مدینہ آگیا مگر اس کے متعلقین ایران میں رہے اور جہاں جہاں بھی کوئی مسلمان تھا اس نے اسلام کا تعارف وہاں کرایا اور اس طرح چاروں طرف اشاعت کا سامان بھی ہو گیا اور جتھا بھی قائم ہو گیا۔پس اللی جماعتوں کے متعلق اللہ تعالی کی سنت یہی ہے کہ وہ ایمان کو چاروں طرف پھیلاتا ہے مگر بعض دفعہ کسی مصلحت کے ماتحت تمام ایمان لانے والوں کو اکٹھا بھی کر دیتا ہے مگر اس کا ذریعہ ہجرت ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوا۔مصر کے مختلف مقامات پر آپ کے ماننے والے تھوڑی تھوڑی تعداد میں موجود تھے مگر پھر ان کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا گیا اور پھر ایمان کو پھیلانے کے لئے کنعان کی طرف روانہ کیا گیا تا وہ مختلف قوموں اور گروہوں میں سے گزرتے ہوئے ان میں دین کو پھیلاتے جائیں۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں مسلمانوں کو ہجرت کر کے مدینہ جمع ہونے کا حکم دیا گیا اس میں بھی مصلحت تھی۔یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ سب کو مکہ میں ہجرت کر کے جمع ہونے کا حکم دے دیا جاتا اور اس طرح سارے مسلمان اگر مکہ میں اکٹھے ہو جاتے تو اس طرح بھی ان کی ایک طاقت بن جاتی مگر اس طرح یہ غرض پوری نہ ہو سکتی تھی کہ اسلام سارے عرب میں پھیل جائے۔مکہ سے مدینہ قریباً دو سو میل کے فاصلہ پر ہے اور اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو مکہ سے دو سو میل کے فاصلہ پر لے گیا