خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 304

خطبات محمود ۳۰۴ جلد سوم دوسروں کی اطاعت کر رہا ہے ان میں بھی دوسروں کی اطاعت نہایت محدود اور تنگ دائرہ میں محصور ہوتی ہے زیادہ تر اس کے وہی کام ہوتے ہیں جو کسی کے ماتحت نہیں ہوتے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں دوسرے کی اطاعت اور فرمانبرداری یا یوں کہو کہ صحیح اطاعت اور فرمانبرداری بہت کم ہے۔چنانچہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ - له فاسق کے معنے ہیں اطاعت سے نکل جانے والا یعنی دنیا میں اکثر لوگ اطاعت سے باہر ہیں۔بہت تھوڑے ہیں جو اطاعت کے دائرہ کے اندر ہوتے ہیں جب اکثر لوگ صحیح اطاعت سے باہر ہیں تو اطاعت کا تجربہ بھی انہیں نہ ہوا اگر وہ صحیح اطاعت کرتے تو اپنے آپ کو غلام بھی نہ سمجھتے۔کیونکہ صحیح اطاعت یعنی وہ جو خدا کے منشاء کے ماتحت ہو انسان کو غلام رکھ ہی نہیں سکتی۔ایسی اطاعت کا لازمی نتیجہ آزادی، حریت اور لوگوں کی رہنمائی ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کی اطاعت کی خدا نے ان الفاظ میں گواہی دی ہے کہ جب انہیں کہا گیا اسلم تو انہوں نے کہا اسلمُتُ لِرَتِ العَلَمینَ۔سے یعنی انہیں کہا گیا پورے طور پر فرمانبردار ہو جاؤ تو انہوں نے پوری فرمانبرداری کی۔مگر فرمانبرداری کا مفہوم انہوں نے کیا سمجھا یہی کہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِما ما۔سے وہ خوب جانتے تھے کہ حقیقی اطاعت لوگوں کو غلامی میں نہیں رکھ سکتی؟ بلکہ انہیں سرداری تک پہنچاتی ہے۔اس لئے انہوں نے دعا کی کہ خدایا مجھے بھی سرداری بخش - وَمِنْ ذُريتي - شے اور میری اولاد میں سے بھی جو تیری کامل فرمانبرداری کریں انہیں بھی اس مقام پر پہنچا۔در اصل فرمانبرداریاں اور سرداریاں دونوں خدا کی طرف سے آتی ہیں۔يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ - له جد و جہد بھی ہوتی ہے مگر اس کی توفیق بھی خدا کی طرف سے ہی ملتی ہے سامان بھی خدا کی طرف سے پیدا ہوتے ہیں۔اور نتائج بھی اسی کی طرف سے مترتب ہوتے ہیں۔اگر انسان اس پر غور کرے تو اس کے منہ سے بے اختیار الحمد للہ نکلے گا کیونکہ کامل فرمانبرداری کے نتیجہ میں ہی کامل محمد پیدا ہوتی ہے اور جب حمدہ صحیح اللہ تعالی ہی کی ہو سکتی ہے اور چونکہ صحیح انعام اس کی طرف سے آتا ہے اس لئے صحیح اطاعت بھی اسی کی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اَلحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العَلَمِینَ۔کہ کے آگے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ایاک نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينَ - شه عبودیت تامہ کسی ایسی ذات کی نہیں ہو سکتی جو صحیح احکام نہ دے سکے۔سو حقیقی اطاعت اس کے لئے ہے جس کے لئے حقیقی حمد ہے اور وہ خدا تعالیٰ ہی ہے۔پھر ظل کے طور پر جو اس