خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 303

خطبات محمود Al چند موم اللہ تعالی کی رضا مد نظر رکھنے سے رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں (فرموده ۲۹ مارچ ۱۹۳۱ء) ۲۹ مارچ ۱۹۳۱ء بعد نماز ظہر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک نکاح سلے کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- یہ عجیب بات ہے دنیا میں اکثر انسان یہی شور کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہمیں آزادی نہیں اور یہ کہ ان کے ملک یا ان کی قوم پر یا ان کے گروہ اور ان کے جتھے پر یا ان کی انجمن پریا ان کے سکول یا کالج پر یا ان کے کارخانہ میں یا ان کی تجارتی کو ٹھی میں کسی ایک شخص کی حکومت ہے یا دو کی یا تین کی باقی اس سے محروم ہیں اور حریت کے معنے یہ سمجھے جاتے ہیں کہ انسان اپنی منشاء کے مطابق عمل نہیں کر سکتا۔لیکن اگر ہم حقیقت پر غور کریں اور واقعات پر جس صورت میں موجود ہیں نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت کسی پر کسی دوسرے کی حکومت بہت کم ہے بلکہ عام طور پر انسان پر اس کے اپنے نفس کی حکومت ہوتی ہے۔بظا ہر جب انسان دوسرے کی حکومت تسلیم کر رہا ہوتا ہے اس وقت بھی وہ اپنی ہی فرمانبرداری اور اطاعت کر رہا ہوتا ہے اور پھر جن امور میں وہ اطاعت کر رہا ہوتا ہے اگر ہم غور کریں تو ان کی تعداد ان امور کے مقابلہ میں جن میں وہ اپنی مرضی کے مطابق کام کر رہا ہوتا ہے بہت تھوڑی ہوتی ہے۔اول تو انسان اپنی ہی اطاعت کرتا ہے لیکن جن کاموں میں وہ یہ خیال کرتا ہے کہ ان میں وہ