خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 300

خطبات محمود ۸۰ لڑکی والوں کی طرف سے مطالبات درست نہیں (فرموده ۲۷ - مارچ ۱۹۳۱ء) ۲۷- مارچ ۱۹۳۱ء بروز جمعہ حضرت خلیفہ المسح الثانی مسجد اقصی میں خطبہ جمعہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا : خطبہ شروع کرنے سے پہلے میں ایک نکاح اے کا اعلان کرنا چاہتا ہوں لیکن ساتھ ہی اس امر کی طرف اپنی جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ رسمیں خواہ کسی رنگ میں ہوں بری ہوتی ہیں۔اور مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں نے اگر بعض رسمیں مٹائی ہیں تو دوسری شکل میں بعض اختیار کرلی ہیں۔نکاحوں کے موقع پر پہلے تو گھروں میں فیصلہ کر لیا جاتا تھا کہ اتنے زیور اور کپڑے لئے جائیں گے پھر آہستہ آہستہ ایسی شرائط تحریروں میں آنے لگیں پھر میرے سامنے بھی پیش ہونے لگیں۔شریعت نے صرف صر مقرر کیا ہے اس کے علاوہ لڑکی والوں کی طرف سے زیور اور کپڑے کا مطالبہ ہونا بے حیائی ہے اور لڑکی بیچنے کے سوا اس کے اور کوئی معنے میری سمجھ میں نہیں آئے۔یہ خاوند کا کام ہے کہ اپنی بیوی کے لئے جو تحائف مناسب سمجھے لائے اسے مجبور کر کے تحائف لینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی کو گردن سے پکڑے اور اس کے منہ پر مکا مار کر کہے مجھے چومو۔وہ بھی کوئی پیار ہے جو مار کر کرایا جائے۔اسی طرح وہ کیا تحفہ ہے جو مجبور کر کے اور کہہ کر اگر یہ چیزیں نہ دو گے تو لڑکی نہیں دی جائے گی وصول کیا جائے۔یہ تحفہ نہیں بلکہ جرمانہ ہو گا جس سے محبت نہیں بڑھ سکتی۔