خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 301

خطبات محمود جلد سوم میں آئندہ کے لئے اعلان کرتا ہوں کہ اگر مجھے علم ہو گیا کہ کسی نکاح کے لئے زیور اور کپڑے کی شرائط لگائی گئی ہیں یا لڑکی والوں نے ایسی تحریک بھی کی ہے تو ایسے نکاح کا اعلان میں نہیں کروں گا۔اگر تم نے واقع میں اسلام قبول کیا ہے اور اپنی اصلاح کرنا چاہتے ہو تو اصطلاح کی صحیح صورت اختیار کرو۔ایک طرف سے غلاظت پونچھ کر دوسری طرف لگا لیتا صفائی نہیں۔فضول رسمیں قوم کی گردن میں زنجیریں اور طوق ہوتے ہیں جو اسے ذلت اور ادبار کے گڑھے میں گرا دیتے ہیں اسلام ان سے منع کرتا اور اعتدال سکھاتا ہے۔اور جہاں ان لوگوں کے خلاف اظہار نفرت و حقارت کرتا ہے جو اپنی بیوی کے لئے کسی قسم کا ہدیہ لانا نا جائز سمجھتے ہیں کیونکہ ہدیہ و دار اور محبت کے ازدیاد کا ذریعہ ہوتا ہے وہاں ان کو بھی نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو مجبور کر کے ہدایا اور تحائف وصول کرتے ہیں۔اگر یہ ناجائز ہے کہ شادی کے تحائف اور ہدایا رو کر دئیے جائیں اور ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے تو یہ بھی ناجائز ہے کہ کسی کو مجبور کیا جائے کہ ضرور تحائف دو۔یہ دونوں باتیں شریعت کے خلاف ہیں۔اسلامی است وسطی امت ہے جسے ہر بات میں درمیانہ طریق اختیار کرنے کا حکم ہے۔غریب آدمی آہستہ آہستہ مر تو ادا کر سکتا ہے مگر زیور اور کپڑے کے لئے اسے ضرور قرض لینا پڑے گا۔اگر یہ رسم جاری ہو گئی تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ یا تو لوگ لڑکیوں کو گھروں میں بٹھانے پر مجبور ہوں گے جس سے ان کی اخلاقی حالت کے خراب ہونے کا خطرہ ہو گا یا پھر قرض اٹھانے کی وجہ سے جماعت کی تمدنی حالت بگڑ جائے گی۔اس سے زیادہ بیوقوف کون ہو سکتا ہے جو اپنی لڑکی مقروض خاوند کو دیتا ہے جو خاوند رات دن اسی غم میں گھلتا رہتا ہے کہ قرض کس طرح ادا ہو وہ بیوی کو کیا آرام و آسائش پہنچا سکتا ہے۔پھر خون جگر پینے والے کی اولاد بھی منحنی، کمزور، کم ہمت اور دائم المریض ہوگی۔شریعت چاہتی ہے کہ ہر انسان آزاد ہو اور مقروض آزاد نہیں ہوتا اس کے امد ر جرات اور دلیری نہیں ہوتی جب اور کہیں سے قرض نہ ملے تو ہندوؤں کے پاس جانا پڑے گا اور سودی قرضہ لینا پڑے گا۔شاید کوئی کہہ دے مالدار لوگ بھی تو ہوتے ہیں مگر مالدار کے لئے شریعت نے اس کی حیثیت کے مطابق مہر رکھا ہے باقی زیور اور کپڑے وغیرہ محبت کے لئے ہیں تو خاوند اپنی مرضی سے خود دے گا لیکن مجبور کرنے سے محبت نہیں پیدا ہو سکتی۔بغیر اشارہ کے اپنی خوشی سے خواہ کوئی دس کروڑ کی مالیت کے تحائف لے آئے لیکن جب فیصلہ کیا جائے کہ اتنا زیور اور کپڑا ضرور لاؤ تو یہ سودا ہے جس سے