خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 165

۲۶۵ ا جلد سوم کرتے ہوں گے۔ان کے نزدیک یہ بڑی بات ہوگی کہ ڈپٹی ان کے گھر پر آئے لیکن یہ ان کو کہاں معلوم تھا کہ اس لڑکے کو خدا یہ برکت دے گا کہ بادشاہ اس سے ہی نہیں بلکہ اس کے کپڑوں سے بھی برکت ڈھونڈیں گے۔اور رنجیت سنگھ کا کیا درجہ ہے اس سے ہزاروں درجے بڑے بادشاہ اس کے کپڑوں سے بھی برکت لینے کو خوش قسمتی سمجھیں گے۔پھر یہ ان کے گمان میں کہاں تھا کہ دنیا اس کے پاس آئے گی۔ابھی دیکھو اس مجلس میں کوئی کابل کا بیٹھا ہے، کوئی مدراس کا، کوئی بنگال کا کوئی حیدر آباد کا اور کوئی کہیں کا۔حضرت صاحب کے والد کو اس وقت یہ کہاں معلوم ہو گا کہ کوئی یو نائیٹڈ سٹیٹس بھی ہے۔آسٹریلیا کا ان کو علم نہ ہو گا اور ماریشس کا تو ان کو یقینا علم نہ ہو گا۔پھر وہ کیسے خیال کر سکتے تھے کہ ان علاقوں میں اس لڑکے پر جان قربان کرنے والے ہوں گے۔ان کو کس طرح یہ گمان ہو سکتا تھا کہ وہ بچہ جو پیدا ہو گا اس کی حکومت زمین پر نہیں بلکہ وہ قلوب پر حکومت کرے گا اور لوگ خواہش کریں گے که مال و جان و عزت اس کے قرب کے حاصل کرنے کے لئے قربان کر دیں۔ان کے یہ بات ذہن میں نہیں آسکتی تھی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کے قریباً ہم عمر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی تھے ان کے والد کا جس وقت نکاح ہوا اگر ان کو حضرت اقدس مسیح موعود کی حیثیت معلوم ہوتی اور وہ جانتے کہ میرا ہونے والا بیٹا محمد رسول اللہ ﷺ کے حل اور بروز کے مقابلہ میں وہی کام کرے گا جو آنحضرت ا کے مقابلہ میں ابو جہل نے کیا تھا تو وہ اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔نہیں اس کے اثرات اور نتائج اچھے سے اچھے بھی ہو سکتے ہیں اور بد سے بد بھی۔ان حالات و اثرات کا جو بعد میں پیدا ہونے والے ہیں انسان احاطہ کرہی نہیں سکتا کیونکہ اس کے عظیم الشان اور گہرے اثرات ہوتے ہیں کہ دل کو ہلا دیتے ہیں۔اس کے مشابہ ایک واقعہ ہے کہ بادشاہ نے ایک شخص کو قاضی القضاۃ یا ہائیکورٹ کا جج بنا دیا۔لوگ اس کو مبارکباد دینے کے لئے گئے دیکھا تو وہ رو رہا تھا۔اور اس کی گھگی بندھی ہوئی تھی۔ایک شخص نے کہا جناب یہ تو خوشی کا موقع ہے آپ کو ایسا کونسا حادثہ پیش آیا جو آپ رو رہے ہیں اس نے کہا یہی تو رونے کا مقام ہے۔اس شخص نے کہا۔کہ آپ کو بادشاہ نے دانا اور لائق سمجھ کر یہ عہدہ دیا ہے آپ اس پر کیوں روتے ہیں۔اس نے کہا اے بے وقوف! اندھے