خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 164

خطبات محمود ۱۶۴ جلد سوم لوگ خود کشیاں کرلیتے ہیں۔اگر سورج کا طلوع ہونا بھی ان کے لئے ایسا ہی غیر معمولی ہو تو لوگوں کی کیا حالت ہو ؟ میں خیال کرتا ہوں کتنے ہی مر جائیں اور کتنے ہی لوگ سجدے میں جاپڑیں کہ یہی خدا ہے۔باوجودیکہ نکاح ہر گھر میں ہوتا ہے اور اس کا اتناہی اثر سمجھا جاتا ہے کہ ایک دلہن آتی ہے اور کچھ چھوہارے بٹ جاتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے نکاح کے اثرات بہت عظیم ہیں۔نکاح کے اثرات کے نتیجہ میں دنیا تباہ ہو سکتی ہے اور آباد بھی۔اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ جب نبی کریم کے والد کی شادی ہوئی تو کوئی خصوصیت اس میں ظاہر نہیں ہوئی۔رسول کریم ا کے والد اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔آپ کی شادی کے لئے کوئی اظہار شان نہیں ہو تا مگر اس وقت کس کو معلوم تھا کہ ان کے ہاں ایسا بیٹا پیدا ہو گا جو دنیا کی کایا پلٹ دے گا۔یہ بات اس وقت کس کے ذہن میں آسکتی تھی کہ وہ بچہ مومن و کافر کی توجہ کو پھیر دے گا۔آج دنیا میں شور ہے اور ترکوں کی جنگ ہو رہی ہے یہ بھی اس عبد اللہ کے بیٹے ہی کی وجہ سے ہے۔یورپ ترکوں کا اتنا مخالف نہ ہوتا اگر ترک آنحضرت لا کو ماننے والے نہ ہوتے۔آج ہندوستانیوں کو ترکوں سے اتنی ہمدردی نہ ہوتی اگر ہندوستانیوں کو ترکوں سے آنحضرت نے نہ جوڑ دیا ہوتا۔پس کیا یہ شور عبد اللہ اور آمنہ کے نکاح کا نتیجہ نہیں ؟ مگر اس وقت کیا کوئی کہہ سکتا تھا کہ اس کا ایسا نتیجہ ہو گا۔اسی طرح اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد کا نکاح ہوا۔آپ کے والد کو آپ کے متعلق زیادہ سے زیادہ یہ خیال ہو گا کہ یہ ڈپٹی ہو جائیں گے۔سکھوں کی حکومت چلی گئی تھی ان کو خیال ہو گا کہ میں تحصیلدار کرا دوں گا اور پھر یہ ترقی کرے گا ان کا کہاں یہ خیال ہو گا کہ دنیا کی ترقی اور تنزلی کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہوں گی۔اگر آپ تحصیلدار ہوتے یا اس سے بڑھ کر ڈپٹی ہو جاتے اور ڈپٹی کمشنر کی غیر حاضری میں قائم مقام ڈپٹی کمشنر بھی ہو جاتے تو آپ کی عزت کیا ہوتی یہی کہ ماتحت ملازمین عزت کرتے یا اہل مقدمہ۔زیادہ سے زیادہ صوبہ کے افسرہی ہوتے تو صوبے کے لوگ آپ کی عزت کرتے اور جب پنشن لے لیتے تو یہ افسری ختم۔لیکن ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ ہماری شادی کے نتیجہ میں جو بچہ پیدا ہو گا سارے زمانہ کی روحانی ترقیات اس سے وابستہ ہوں گی۔اس دنیا کی نہیں اگلے جہاں کی نجات کا انحصار اس کے ماننے پر اور عذاب نہ ماننے پر مقدر ہو گا۔وہ زیادہ سے زیادہ ڈپٹی ہونے کا خیال