خطبات محمود (جلد 3) — Page 166
خطبات محمود 144 جلد کو رستہ بتایا جا سکتا ہے۔لیکن سو جا کھے کو کون بتائے۔میرے پاس دو شخص آئیں گے۔ایک مدعی جو کہتا ہے میں نے فلاں شخص سے دس روپے لینے ہیں وہ مجھے دلوا دیجئے۔اب وہ خوب جانتا ہے کہ آیا در حقیقت اس نے روپیہ لیتا ہے یا نہیں اور مدعا علیہ آتا ہے جو کہتا ہے کہ میں نے اس کا کوئی روپیہ نہیں دیتا یہ جھوٹ کہتا ہے۔یہ دونوں شخص جانتے ہیں کہ واقعہ کیا ہے لیکن فیصلہ میرے ذمہ ڈالا گیا ہے جس کو کچھ بھی معلوم نہیں کہ واقع کیا ہے۔میں اس لئے روتا ہوں کہ میں اس میں کیسے فیصلہ کر سکتا ہوں کیونکہ اس حال میں میرے فیصلہ کے صحیح ہونے میں بہت مشکل ہے اور ہو سکتا ہے کہ میرے فیصلے سے بہت لوگ نقصان اٹھا ئیں ان کا گناہ میری گردن پر ہو گا۔یہ بات معمولی اور محض ان کا ذوق تھا مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ شادی کا موقع ایسا ہے کہ اندھیرے میں ہاتھ مارنا ہے چاہے ہاتھ میں موتی آجائے اور چاہے سانپ اسی لئے اسلام نے نکاح کی بنیاد تقویٰ پر رکھی ہے اور دنیاوی اغراض کو درمیان سے اڑا دیا ہے۔ایک خوبصورت بیوی لازمی نہیں کہ آرام دہ ہو مگر ایک بد صورت آرام دہ ہو سکتی ہے۔ہمیں وہ عورت سکھ دے سکتی ہے جو ہماری ہمدرد ہو۔عورت چاہے تو مرد کو بالکل آزاد کر سکتی ہے اور خانگی تفکرات سے نجات دے سکتی ہے اور اگر عورت چاہے تو مرد کو قید بھی کر سکتی ہے اور اس کی عزت و حرمت کو خاک میں ملا سکتی ہے۔اور چاہے تو امن و آرام اور خیر و خوبی سے متمتع کر سکتی ہے۔اس نکاح کے معاملہ میں چودھری ابوالہاشم خاں صاحب ایم۔اے نے جن کی لڑکی ہے اس بات کو محسوس کیا ہے۔انہوں نے مجھ سے تھوڑا سا پڑھا ہے اور جو پڑھا ہے اس کو خوب یاد رکھا ہے۔میں نے جب ان کو اس نکاح کے متعلق خط لکھا تو اس کے جواب میں جو خط ان کی طرف سے آیا ہے اس میں جن شرائط کے ساتھ وہ اس نکاح کو منظور کرتے ہیں وہ ایسی روح رکھتی ہیں جو ہماری جماعت میں پیدا ہونی چاہئے وہ لکھتے ہیں بے شک میاں عبد السلام بڑے باپ کے بیٹے ہیں اور اس لئے ہمارے لئے واجب الاحترام ہیں لیکن میں اپنی بیٹی کسی کے بیٹے کو نہیں دینا چاہتا بلکہ کسی آدمی کو دینا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ میرا داماد اسلام کے لئے لڑنے والا ہو، وہ اسلام کی جنگ میں جان دے دے، وہ اسلام کا خادم اور سپاہی ہو اور اسلام کے مقصد میں اپنی زندگی کو لگا دے اور نہ صرف میرے داماد میں یہ بات ہو بلکہ میں چاہتا ہوں میری