خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 163

محمود ۱۹۳ جلد سوم اللہ تعالی ان سے اپنے دین کی خدمت لے۔مگر چونکہ ان کا تعلق ایک ایسے وجود سے ہے جس کی شادی و غم ہم سے تعلق رکھتا ہے اس لئے باوجود اس کے کہ ابھی ان سے کوئی کام ظاہر نہیں ہوئے ان کی حضرت خلیفہ المسیح الاول سے وابستگی کی وجہ سے جن کی خوشی ہمارے لئے اپنی خوشی کے برابر اور بعض صورتوں میں اپنی خوشی سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے ان کی خوشی ہماری خوشی ہے۔یہ محسوس کر کے کہ طبعی احساسات اس خوشی کے طلب گار ہیں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول اگر زندہ ہوتے تو وہ کس طرح خوشی مناتے۔وہ خود کس قدر دعائیں کرتے اور دوسروں کو بھی کس قدر دعائیں کرنے کی تحریک ہوتی۔اس بات کا خیال کر کے یہ موقع ہمارے قلوب کے باریک احساسات میں خاص حرکت پیدا کرتا ہے اور خوشی کی لہر ہمارے جسم میں پیر سے لے کر سر تک پھیل جاتی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ نکاح ہوتے ہیں اور یہ معمولی واقعات میں سے بات سمجھی جاتی ہے۔مگر بعض واقعات اپنے ساتھ خصوصیات رکھتے ہیں اور انسان کی تمام توجہ ان کی طرف منعطف ہو جاتی ہے ہم ایک پہاڑی گاؤں میں سیر کے لئے گئے۔ایک جگہ رات ہو گئی۔ہمیں ٹھہرنا پڑا۔ہم نے اپنا سپرٹ کا چولہا جلایا اور سبزی ترکاریاں اس پر پکانی شروع کیں۔گاؤں چھوٹا سا تھا۔دس پندرہ گھر ہوں گے۔وہاں کے سب لوگ چولہے کو دیکھنے کے لئے قطار باندھ کر ہمارے ارد گرد بیٹھ گئے۔اور انہوں نے رائے زنی شروع کی۔ان میں سے ایک کی بات زیادہ عجیب تھی وہ مجھے یاد رہی۔اس نے کہا کہ میں سمجھ گیا ہوں اس میں جن بند کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے آگ نکل رہی ہے۔گاؤں والوں کے لئے چونکہ اس قسم کا چولہا بالکل عجیب چیز تھا اس لئے وہ اس سے حیران ہوئے لیکن خدا کا سورج روز چڑھتا ہے مگر اس کی طرف لوگوں کو قطعاً توجہ نہیں ہوتی۔بجلی کا لیمپ جس میں سورج کی ایک شعاع کے برابر بھی روشنی نہیں ہوتی اس کی طرف لوگ توجہ کرتے ہیں مگر اس لیمپ کی طرف جو خدا نے چڑھایا ہے ان لوگوں کی توجہ نہیں۔اگر کوئی ایسا علاقہ ہو تا جہاں نسلاً بعد نسل سورج نہ نکلا ہوتا وہاں سورج نکل آئے تو ہزاروں آدمی مر جائیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں جب دمدار ستارے نکلتے ہیں یورپ میں کئی لوگ اس خیال سے خود کشیاں کر لیتے ہیں کہ ان کا نتیجہ ہمارے حق میں مضر ہو گا۔تو جب ایک دیدار ستارہ کے طلوع ہونے پر